fbpx

گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

گھر سے باہر نکلنے پر کیا خواتین سے نماز ساقط ہو جاتی ہے؟ یا پاکستان میں نمازی خواتین گھر سے باہر نکلتی ہی نہیں ہے؟
اگر یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں تو پھر خواتین کے لیے نماز کی جگہ کیوں نہیں بنائی جاتی؟

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس پر شاید ہی کسی نے بات کی ہو لیکن ہر روز لاکھوں خواتین کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موٹروے کے علاوہ آپ پاکستان کی کسی بھی سڑک پر کسی بھی علاقے میں سفر کر لیں یا پاکستان کے کسی بھی بازار میں چلے جائیں، یا کسی پارک یا ٹورسٹک پوائنٹ پر چلے جائیں، ہر جگہ آپ کو مردوں کے لیے جا بجا مساجد نظر آتی ہیں لیکن ان میں شاید ہی کوئی ایسی مسجد ملے جس میں خواتین کے لیے بھی مخصوص جگہ ہو جہاں وہ نماز پڑھ سکیں۔ ہاں جو غیر ملکیوں نے بنائی ہو گی جیسے موٹروے، کوئی ملٹی نیشنل پلازہ یا شاپنگ مال، یا غیر ملکی بڑا پٹرول پمپ، وہاں ایسی مساجد بھی مل جائیں گی۔

حالانکہ نماز کے لیے جتنی فرضیت مسلمان مردوں پر ہے اتنی ہی خواتین پر ہے۔ خواتین کے لیے گھر میں پڑھنا افضل ہے لیکن یہ کیوں فرض کر لیا گیا ہے کہ خواتین جہاں بھی ہوں ، نماز کا وقت ہوتے ہی فوراً سے گھر پہنچیں اور پھر نماز ادا کریں؟

اگر کسی مسجد میں کچھ حصہ پردے وغیرہ لگا کر خواتین کے لیے مختص کر دیا جائے جیسا یورپ میں عام طور پر ہوتا ہے یا پھر مسجد کا ایک مکمل الگ حصہ بنا دیا جائے جیسا کہ موٹروے پر آپ دیکھ سکتے ہیں تو اس سے لاکھوں خواتین کی نماز قضاء ہونے سے رہ جائے گی۔ اور اکثر دیکھتا ہوں کہ جب اس طرح خواتین کی کچھ نمازیں قضاء ہونا شروع ہوتی ہیں تو رفتہ رفتہ وہ سستی کی وجہ سے وہ نمازیں بھی ترک کرنا شروع کر دیتی ہیں جو وہ پڑھ سکتی ہیں کیونکہ وہ جو نماز چھوڑنے پر گناہ کا اور ندامت کا احساس ہوتا ہے وہ آہستہ آہستہ کم ہو کر ختم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ نمازیں ان کی نہیں بلکہ معاشرے کی غلطی کی وجہ سے قضاء ہو رہی ہوتی ہیں۔

نمازی خواتین کی جو اس طرح نمازیں قضاء ہوتی ہیں اس پر انھیں تو شاید اللہ تعالیٰ معاف کر دے گالیکن ہم سب اس میں قصوروار ضرور ہونگے اور اس میں ہمارا دینی طبقہ اور علماء کرام خاص طور پر پکڑے جائیں گے جو ہر گلی میں ہر مسلک کی الگ الگ مسجد تو بنا دیتے ہیں لیکن ایسا کبھی نہیں کرتے کہ ان میں سے کسی مسجد کا تھوڑا سا حصہ خواتین کے لیے مختص کر دیں۔

احباب سے گزارش کروں گا کہ اس پر آواز بھی اٹھائیں، اور جب بھی کسی مسجد کو چندہ دیں تو وہاں بھی یہ بات ضرور کریں۔ یہ خواتین کا دینی حق ہے کہ وہ مجبوری کی حالت میں گھر سے باہر بآسانی نماز پڑھ سکیں۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے اس پر کبھی بات نہیں کریں گے، ہمیں ہی اس پر بات کرنی ہے۔