گھریلو تشدد بل کے پاکستانی معاشرے پراثرات . تحریر: عمران خان رند بلوچ

0
45

میرے معزز قارئین، پاکستان کا قیام دراصل ایک اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر عمل میں آیا۔ ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے اپنی زندگی اس مشن کےلیے وقف کردی کہ مسلمانوں کے لیے اک الگ اسلامی فلاحی ریاست قائم ہو جس میں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو تشدد بھی ایک حقیقت ہے جسے پس پردہ نہیں ڈالا جاسکتا، اس تشدد کے نتیجے میں کئی گھر ویراں ہوجاتے ہیں،تیزاب گردی کا نشانہ بنی خواتین اپنی باقی ماندہ زندگی میں اصلی صورت کو گنوا دیتی ہیں۔

لیکن ان واقعات کی روک تھام کےلیے ہمارے معاشرے کی اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت کی ضرورت پر زور دیا جانا چاہیے۔
پاکستانی معاشرے کی اصلاح صرف اسلامی قوانین کو نافذ العمل کرنے سے ہی ممکن ہے نہ کہ مغرب کی تقلید کرنے سے۔ قارئین کرام ہمارے حکمران اک طرف تو ریاست مدینہ کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی باتیں کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہ حکومت مغرب کی تقلید کرتی نظر آرہی ہے۔

اسکی واضح مثال گھریلو تشدد بل کی منظوری ہے۔
میرے معزز قارئین گھریلو تشدد بل اپریل میں محترمہ شیریں مزاری وزیر برائے انسانی حقوق نے مختلف عالمی تنظیموں کی ایماء پر اس بل کو تشکیل دیا۔اور قومی اسمبلی سے منظور کروا لیا۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ کو بھجوایا گیا۔ ایوانِ بالا نے اس بل میں چند ترامیم کے بعد منظور کر کے واپس قومی اسمبلی کو بھجوا دیا گیا۔

اس بل کی منظوری کے بعد سے معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔
اس بل میں ہر قسم کے گھریلو تشدد کے خلاف سخت اقدامات کی تجویز دی گئی۔ بل میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کا مرتکب پائے گئے شخص کو زیادہ سے زیادہ تین سال اور کم سے کم چھ ماہ قید کی سزا ہوگی مزید مجرم کو بیس ہزارسے ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا ۔

قارئین اس بل کی شق تین میں بیوی کو دوسری شادی یا طلاق کی دھمکی یا بانجھ پن کا طعنہ دینا یا خاتون کے کردار پر شک کرنا یا بیٹے یا بیٹی کی مرضی کو ٹھکرانے یا کسی کو مارنا ، ہراسانی کرنے وغیرہ کو زیادتی قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ عدالت میں درخواست دائر ہونے کے سات روز کے اندر کیس کی سماعت ہوگی اور نو روز میں فیصلہ سنایا جائے گا۔
جب اس بل کی مخالفت میں ملک میں احتجاج ہونا شروع ہوئے تو حکومت نے اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوانے کا اعلان کیا۔
جب اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا تو سوشل میڈیا پر چند NGO’s کی جانب سے حکومت مخالف ٹرینڈز بننا شروع ہوگئے۔
فیمینزم اور سیکولر طبقے کی جانب سے اس اقدام کو مذہبی دباؤ کی وجہ قرار دیا گیا۔
فیمینزم ماہر قانون اوروباستاراحمد نے ٹویٹ میں کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ساخت ہی غیر قانونی ہے جس میں کوئی خاتون شامل نہیں وہ کیسے خواتین کے حقوق کا دفاع کرے گی۔

جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر مشتاق احمد خان نے بل کے متن میں شامل زیادتی کی ان وضاحتوں پر اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ہمارے خاندانی نظام کےلیے ٹائم بم ہے جو ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کردے گا۔سینیٹر مشتاق احمد خان ان چند سینیٹرز میں شامل ہے جنہوں نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا جبکہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن، پی پی پی اور تحریک انصاف نے س بل کی حمایت میں رائے کا استعمال کیا۔

سربراہ تحریک بیداری امت مصطفیٰ علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات فہم سے بالا ہیں انہوں نے بل کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اک طرف تو حکومت ریاست مدینہ کے نعرے لگاتی ہے دوسری طرف مغرب کی پیروی کرتے تھکتی نہیں۔

علامہ جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لاگو ہونے سے مغربی بے ہودہ کلچر کو فروغ ملے گا جو کہ اسلامی معاشرے اور خاندانی روایات کے صراصر خلاف ہے۔

معروف عالم دین مفتی طارق مسعود نے اس بل کی مخالفت میں کہا کہ ایسے قوانین ہماری آنے والی نسلوں کےلیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔
میرے خیال میں حکومت کو چاہیے کہ جلد سے جلد اس بل کو واپس لے اور منسوخ کرنے کا اعلان کرے۔
حکومت کو ایسے قوانین بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے جن کی کوئی واضح ساخت نہ ہو تاکہ اسکا غلط استعمال کم ہو

@ibaloch007

Leave a reply