fbpx

غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ

غریبی محبت کا دشمن ہے .تحریر: محمد اصغر بلوچ
لوگ کہتے ہیں غربت میں تو اپنے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں تم غیروں کی بات کرتے ہو
ایسی ہی کہانی کچھ میری کسی سے محبت کرنا اور اسکی عادت پڑ جانا اور جب وہی ساتھ چھوڑ جائے تو انسان ذہنی مریض بن جاتا ہے
عرصہ ہونے کو ہے لیکن وہ شخص میرے ذہن میرے خیالوں سے جاتا ہی نہیں،
مان لیا جائے کہ اسکی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں لیکن جس شخص نے مجھے اتنا چینج کیا اسکی ہر بات ماں باپ کی طرح مانی لیکن اسے ایسی کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ چھوڑ گیا یہ سوال ہر وقت میرے ذہن میں ہے

اسکی باتوں اور اسکے خیالوں سے میں ایک اندازہ لگا چکا کہ میری غریبی میری محبت کی قاتل نکلی
خدارا کسی سے محبت کرنا ہے تو اسے راستہ میں مت چھوڑو وہ درمیان راستے میں نہ مر سکتا ہے نہ جی سکتا ہے
آخر میں فراز کا ایک شاعر یاد آیا کہ
محبت کرنا ہے تو خدا سے کرو
ان مٹی کھلونوں میں وفا نہیں ملتی