غیر کی زبان تحریر:جویریہ بتول

غیر کی زبان…!!!
[تحریر:جویریہ بتول]۔
(مزاح و اصلاح)۔
کچھ عرصہ پہلے وطنِ عزیز میں ایک آواز اُٹھی کہ ارود زبان کی ترویج کے لیئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ تمام طبقات آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور قومی زبان ذریعہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے ذہین لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں…
یہ بات واقعی سچ ہے کہ غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے اور ہم اُن چیزوں کی گہرائی تک پہنچ ہی نہیں پاتے جو ہمیں پڑھائی جا رہی ہوتی ہیں…
بلکہ ان کا سرسری جائزہ لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے…
کسی بھی قوم نے غیر کی زبان میں ترقی نہیں کی…
انبیاء و رسل جن جن اقوام کی جانب بھیجے گئے انہی کی زبانوں میں صحیفے اور کتب بھی نازل ہوئیں…
وجہ کیا تھی؟
کہ وہ اس پیغام کو بخوبی سمجھ سکیں…
قرآن حکیم جیسی کتاب عربی زبان میں نازل ہوئی کیونکہ اس کے اولین مخاطب عربی تھے…
اللّٰہ تعالٰی نے قرآن کی تعلیمات کے منکرین پر حجت تمام کرتے ہوئے انہیں چیلنج کیا کہ ہم نے قرآن عربی زبان میں اس لیئے نازل فرمایا ہے تاکہ تم بہانہ نہ کر سکو کہ ہم تو عربی تھے اور قرآن عجمی زبان میں ہے…
آپ اس بات کو مذید یوں سمجھیں کہ ہم آج بھی قرآنی احکامات کو سمجھنے کے لیئے اس کے اردو تراجم اور تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ قرآن فہمی پر عبور حاصل ہو…
صرف عربی پڑھ لینے سے شاید ہمارے پلے کچھ بھی نہ پڑے…
آج بھی جدید دنیا کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی ہی زبان میں تعلیم حاصل کر کے،اپنی ہی زبان کو فروغ دے کر اس کی عالمی سطح پر ایک پہچان بنا چکی ہیں…!!!
لیکن ہمارے یہاں انگلش میڈیم کی بھر مار نے ہمارے طلباء و طالبات کے ذہنوں میں بوریت اور الجھن کے بیج بو دیئے ہیں…
بھاری بھر کم کتابوں کو رٹا لگا کر امتحان تو پاس کر ہی لیئے جاتے ہیں،مگر ایک تبدیلی اور انقلابی سوچ بہت کم نظر آتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ نوجوان ارود سے بیزار ہو رہے ہیں اور انگریزی کے چند جملے باعثِ فخر سمجھے جاتے ہیں…
انگریزی کو بطور زبان سیکھنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اسے سیکھ کر ہی ہم دیگر اقوام کی تحقیقات اور تجربات سے آگاہ ہو سکتے ہیں…
اپنا پیغام ان تک پہنچا سکتے ہیں لیکن انگریزی میں تعلیم دینا اپنی پہچان ختم کرنے کے مترادف ہے…
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جس جگہ اور ماحول میں پیدا ہوتا ہے اور رہتا ہے،وہ زبان اسے فطری طور پر اپنانا ہوتی ہے…
اس کے ارد گرد ماحول کا اس پر اثر پڑتا ہے اور اسے انہی مثالوں کے ذریعے بتایا اور سمجھایا جا سکتا ہے…!!!
اردو کی اہمیت سے انکار کر کے در حقیقت ہم اپنی پہچان کھو رہے ہیں،دنیا کی چوتھی اور رابطے کی دوسری بڑی زبان سے ناطہ توڑ رہے ہیں جو اپنے اندر دیگر زبانوں کا وسیع ذخیرہ سموئے ہوئے ہے…
اور پورے ملک میں بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے…
ماہرین نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی اپنی زبان میں تعلیم ان کی ذہنی استعداد اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتی ہے…
اور غیر کی زبان میں تعلیم آدھی تعلیم ہے…
اس بات کا مشاہدہ اکثر و بیشتر کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے…
کہ جب بچے کسی انگریزی کتاب کو بوجھ سمجھ کر اور ذہن پر دباؤ سوار کر کے پڑھ رہے ہوتے ہیں…
اور پھر ابتداء سے ہی ان پر یہ نفسیاتی دباؤ بڑھا دینا کوئی مثبت پیشرفت نہیں ہے…
ایک دفعہ ایک بچہ میرے پاس پڑھنے آیا…
کافی ذہین،مشاہدہ اور غور کی صلاحیت رکھتا تھا…
اردو کی کتابوں کا سبق فورًا سنا دیتا اور تیکھے سوال بھی کرتا تھا…
جبکہ یہی طبع آزمائی انگریزی کی کتاب پر بھی جاری رہتی تھی…
ایک دن میں نے اسے سمجھایا کہ امرود کو انگریزی میں کہتے ہیں:
Guava…
آج یہ سبق یاد کرنا ہے…
لیکن لگتا تھا اسے بھی انگریزی سے بلا کی نفرت تھی…
مجھے امرود کی فضیلتیں تو بہت سنائیں کہ ہم گھر امرود لاتے ہیں…
مجھے بہت پسند ہے…
میں امرود کھاؤنا اے…
لیکن لفظ گواوا تو یاد نہ کرنے کی اس نے بھی قسم کھا رکھی تھی…
ہر زاویے سے میں نے اسے سمجھانا چاہا مگر اس نے بات ختم کرتے ہوئے مجھے گہری سوچ میں ڈال دیا کہ ہمارے اندر سمجھنے کی صلاحیتیں ارد گرد ماحول کے مشاہدہ اور مثالوں سے بآسانی سمجھ آتی ہیں یا غیر کی زبان میں بات کر کے…؟؟؟
بچے نے گھر کے ماحول میں جانوروں کا خوب مشاہدہ اور آزمائش کر رکھی تھی…
جب میں نے سبق سنا تو جھٹ بولا: وہ والا ” گتاوہ” جو گایوں اور مجہوں کو دیتے ہیں…؟
میری تو ہنسی ہی چھوٹ گئی کہ بچے نے اتنی دیر کی تگ و دو کے بعد اپنے ارد گرد غور و فکر کرتے ہوئے گواوا کو جانوروں کو ڈالے جانے والے چوکر،کھل اور چارہ کے مجموعہ پنجابی میں مستعمل لفظ سے جا ملایا…
جب کہ لفظ امرود کو وہ بخوبی سمجھ اور پہچان چکا تھا…
اردو کی نظمیں فرفر سناتا،جبکہ انگریزی میں دو چار لائنوں کے بعد خاموش…
بچے چونکہ اپنے ارد گرد مشاہدات،تجربات،گھریلو ماحول اور مذہبی تعلیمات سے بہت کچھ سیکھتے ہیں،
لیکن ان پر ایک ہی بھوت سوار کر دینے سے ان کی ذہنی استعداد کمزور پڑ جاتی ہے…!!!
ہمارے ہاں یہ المیہ رہا ہے کہ آئین میں موجود قومی زبان کے درجہ والی اردو کی بجائے انگریزی کو ذہانت کا معیار مانا جاتا ہے،اور جسے انگریزی نہیں آتی چاہے وہ کتنی ہی خداداد صلاحیتوں کا مالک کیوں نہ ہو،آگے بڑھنے کا مجاز نہیں ہے…
اسی طرح ملک کے اندر اگر میڈیا بھی مقبول ہے تو وہ بھی اردو زبان میں…
انگریزی چینلز عوام میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے…
ہمیں فرنگی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنا نظام انگریزی میں منتقل کرنے کی بجائے اردو کی ترقی کے لیئے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیئیں…
اپنی نسلوں کو انگریزی سے مرعوبیت کی بجائے اردو کی آگہی فراہم کرنی چاہئے…
اردو ادب کی کتابیں…اردو زبان میں دینی کتب کا اصلاحی ذخیرہ، اور قابلِ قدر نامور ادیبوں اور شعراء کی تحریروں کا مطالعہ کروا کر اردو پر ان کی گرفت کو مضبوط کرنا ہو گا…
تاکہ وہ اردو بولتے،پڑھتے اور سمجھتے سمجھاتے ہوئے احساسِ کمتری کی بجائے برتری محسوس کریں…
دار التراجم قائم کر کے اہم چیزوں کو اردو میں ترجمہ کر کے عوام تک پہنچایا جائے تاکہ انگریزی کی توصیف میں مصروف قوم کا مستقبل ذہنی طور پر محروم نہ رہ جائے،اور اس سوچ کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیئے…!!!!
=============================
[جویریات ادبیات]۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.