غیر منتخب افراد وزیراعظم کے معاون خصوصی کیوں؟ عدالت میں درخواست دائر

غیر منتخب افراد وزیراعظم کے معاون خصوصی کیوں؟ عدالت میں درخواست دائر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کےخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی گئی

آئینی درخواست ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے سپریم کورٹ میں دائر کی،درخواست میں ملک امین اسلم خان ،عبدالرزاق داؤد اورحفیظ شیخ کو فریق بنایا گیا ہے،عشرت حسین ،ڈاکٹر ظہیرالدین بابر اعوان سمیت 14 معاونین خصوصی بھی فریق بنائے گئے ہیں

درخواست میں‌ سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ 5مشیروں اور 14 غیر منتخب معاونین خصوصی کی تقرریاں غیر آئینی قرار دی جائیں.

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کا حجم بڑھ گیا اور ارکان کی کل تعداد 48 تک پہنچ گئی،کابینہ میں شامل وفاقی وزراء کی تعداد 25 ہوگئی ہے جبکہ 4 وزیرِ مملکت اور مشیروں کی تعداد 5 ہے۔2 معاونین خصوصی ثانیہ نشتر اور ارباب شہزاد کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہے جبکہ ارباب شہزاد کو آج معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ تعینات کیا گیا ہے۔

شہزاد ارباب کی شمولیت کے بعد وزیراعظم کے معاونین خصوصی کی تعداد 14 ہوگئی جبکہ وفاقی کابینہ میں شامل 19 ارکان غیرمنتخب ہیں جن میں وزیراعظم کے 5 مشیر اور 14 معاون خصوصی شامل ہیں

میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

واضح رہے کہ کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کیا،وزراء اور مشیروں کی فوج در فوج ہے، مگر کام کچھ نہیں،مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا،جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر ایسی بات نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے طور مبینہ طور پر ان کو کرپٹ کہا ہے،ہم نے حکم دیا تھا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کرے،

واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ برس لاہور ہائیکورٹ میں بھی ایک درخواست دائر ہوئی تھی درخواست میں درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ غیرمنتخب نمائندوں کو کابینہ کاحصہ بنایاگیا،عدالت وفاقی کابینہ میں شامل مشیروں کوکام سے روکے،وکیل درخواستگزار نے کہاکہ وفاقی کابینہ کے بغیروزیراعظم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت وزیراعظم کواختیارات کے استعمال سے روکے،

زرتاج گل کے خلاف الیکشن کمیشن میں بھی درخواست دائر، نااہل قراردیاجائے، مطالبہ

درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت،ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ سمیت 4 اراکین کابینہ کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست میں نئی وفاقی کابینہ کے اراکین کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے ایسا شخص وفاقی وزیر کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتا جو قومی اسمبلی کا ممبر نہ ہو، آئین کی رو سے صرف عوام کا منتخب کردہ نمایندہ ہی وفاقی وزیر کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی موجودہ کابینہ غیر آئینی ہے کیونکہ اس میں غیر منتخب لوگوں کو وزیر بنایا گیا ہے، عدالت کابینہ کو کالعدم قرار دے اور وزیر اعظم اور کابینہ کو کام کرنے سے روکے

عدالت نے یہ درخواست سماعت کے بعد مسترد کر دی تھی

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.