fbpx

غیر قانونی مدرسہ یا عقوبت خانہ،زنجیروں میں جکڑے نوجوانوں‌ پر تشدد،سوکھی روٹی،کوئی کاروائی کرنیوالا نہیں

غیر قانونی مدرسہ یا عقوبت خانہ،زنجیروں میں جکڑے نوجوانوں‌ پر تشدد، کوئی کاروائی کرنیوالا نہیں

کے پی کے ہری پور کے علاقہ پڈھانا میں تقریباً 25 سال قبل واپڈا یعنی تربیلا ڈیم کی جگہ پر مبینہ طور ہر غیر قانونی طریقے سے ایک مدرسہ تعمیر کیا گیا اسکے متولی مولوی الیاس نے دس سال مدرسہ چلانے کے بعد اسے روحانی طریقہ علاج ترک منشیات میں تبدیل کر دیا،

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہاں بندوں کو جنکی عمریں 14 سے 70 سال ہیں کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے بدترین تشدد کیا جا تا ہے پیشاپ بوتلوں میں کروایا جاتا ہے کھانے کے لیے سوکھی روٹی دی جاتی ہے،کہا جاتا یہ منشات کے عادی ہیں مگر یہ سراسر غلط ہے یہاں منشیات کے عادی چند افراد ہونگے باقی تو یہاں اسپیشل قید کروائے گئے ہیں کسی کودوسری شادی کرنے پر دھوکہ سے یہاں لاکر بند کروا دیا گیا تو کسی کو جائداد پر قبضہ کرنے کے چکر میں یہاں بند کروا دیا گیا ہے، یہ بے ضمیر لوگ انکے اہل خانہ کو یہ نہیں بتاتے اس نجی جیل میں انکے ساتھ سلوک کیا کرتے ہیں انہیں انکے رشتہ داروں سے ملنے نہیں دیا جاتا، انہیں بتانے کی کوشش کرنے والے کو جپھی کی سزا دی جاتی جسمیں چار افراد اسکو جکڑ لیتے ہیں اور پھر اسکے پاؤں کی الٹی سائڈ یا ہپس پر ڈندے برسا برسا کر اسکا برا حشر کر دیا جاتا ہے، جسکے بعد وہ کئی دن تک چل نہیں سکتا، کئی افراد اسی تشدد کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے جن میں سے ایک زندہ مثال حاجی منظور ہے جسکا ایم بی اے پاس جوان بیٹا انکی اسی تشدد کی بھینٹ چڑھا اور وہ جان کی بازی ہار گیا اسکی نعش کو قریب تربیلا جھیل میں پھینکنے کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ پولیس نے پکڑ لیا

لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

 پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش

پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

ایسے کئی خوفناک، دردناک، غضبناک قصے اس جیل نما مدرسے کی چاردیواری میں موجود ہیں جنکی مدد کی ضرورت ہے انہیں انکے اپنوں کے حوالہ کرنے کی ضرورت ہے یہاں سب سے زیادہ دلخراش بات یہ ہے کہ انتظامیہ جانتے بوجھتے ہوئے خاموش ہے اسکے خلاف کاروائی نہ کرنے کے ہزار بہانے تلاش کر رہی ہے یہ آواز ان ظلم کے ستائے 180 سے زائد افراد کی ہمارے پاس امانت ہے ہم نے انہیں انصاف اور رہائی دلوانی ہے، اگر یہ سچ میں ترک منشیات کا قانونی ادارہ بھی ہوتا تو تب بھی قانون اسے انسانیت سوز اقدامات کی اجازت نہ دیتا۔

جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب یہ قانون شکنی کرنے والے کب تک آخر کب تک آزاد گھومتے رہیں گے کب تک فرسودہ نظام کے مارے یہ ادارے ان کرمنلز کو سہارہ دیتے رہیں گے آخر کب تک؟