fbpx

غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق
مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ثانیہ عاشق نے تحریک انصاف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھتی ہیں کہ تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ممبران جنہوں نے “غیرت” کے نام پر استعفیٰ دیے تھے، آج تک اپنی تنخواہیں اور دیگر مراعات وصول کر رہے ہیں۔ اب سپیکر نے استعفے منظور کرنا شروع کیے ہیں تو پوری جماعت اس اقدام کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بھاگ گئی ہے۔ اس سے آگے کیا ہو گا وہ سبھی جانتے ہیں۔

قبل ازیں تحریک انصاف اپنے 11 اراکین اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد عدالت پہنچ گئی، تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں صرف 11 اراکین کے استعفے منظور کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے،

عدالت پیشی کے موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ 11 بندوں کے جو استعفی منظور کرنے کا تماشا لگایا ہے ہم اس کے خلاف آئے ہیں گیارہ اپریل کو اسمبلی کے فلور پر ہمارے 125 لوگوں نے کہا ہم نے استعفی دے دئیے 13 اپریل کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے استعفی منظور کر لیے الیکشن کمیشن کے پاس کیا اختیار تھا کہ وہ تین ماہ قبل سارے استعفی منظور نہ کرے اب الیکشن کمیشن نے گیارہ استعفی منظور کر لیے

اسد عمر کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے متعلق یہ صرف تحریک انصاف کا موقف نہیں ہے بلکہ دو صوبائی اسمبلیاں اس بارے میں قرارداد پیش کر چکی ہیں

اپوزیشن کا بڑا یوٹرن، پی ٹی آئی کی ایک حکومت کو خود ہی بچا لیا

پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا۔