ورلڈ ہیڈر ایڈ

غربت میں کمی کیسے ہو گی اور سالانہ کتنے لوگوں‌ کو بلا سود قرض ملے گا؟ حماد اظہر نے بتا دیا

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں‌ خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نےغربت میں کمی کے لیے ایک نئی وزارت قائم کی ہے. 80ہزار مستحق لوگوں کوہرمہینے بلاسود قرضے دیے جائیں گے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہاکہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کردیے ہیں. بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس نہیں دیتے. اکتیس لاکھ کمرشل صارفین میں سے 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں. تجارتی خسارہ 22 ارب ڈالرہے،
ہم ماہانہ گردشی قرضہ 38ارب روپےسے کم کرکے26ارب روپےتک لے آئے ہیں.

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پچھلے پانچ سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا . بہت سے کمرشل قرضہ جات زیادہ شرح سود پر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پیچھے رہ جانے والے لوگوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں جن میں سے 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات تھے۔ پچھلے ادوار میں بعض کمرشل قرضے زیادہ سود پر لیے گئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران سٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب سے کم ہو کر 10 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ عالمی سطح پر کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر اور تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

حماد اظہر نےکہا کہ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا جس پر 38 ارب روپے ماہانہ سود ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم درآمدات کو 49ارب ڈالر سے کم کرکے45ارب ڈالر تک لے آئے ہیں. ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم پرعمل جاری ہے. انہوں نے کہاکہ احتساب کے نظام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کیلیے اقدامات کیے گئے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.