گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ: کن مراحل سے گزرا اوراس کی آئینی حیثیت کیا ہے؟دلچسپ رپورٹ

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت جاننے کے لیے خطے کے جغرافیائی، تاریخی اور معروضی حالات کے حقائق کو مدنظر رکھنا لازمی ہے۔ اس کے بغیر صورت حال کا سمجھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے اور بغیر سوچے سمجھے کیے ہوئے اقدام کا انتہائی منفی اثر پڑتا ہے،

گلگت بلتستان کا رقبہ تقریباً 73 ہزار مربع کلومیٹر (28 ہزار مربع میل) سے زیادہ ہے۔ 2015 میں کی گئی مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کی آبادی لگ بھگ 18 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔جو اب بڑھ کرساڑھے اٹھارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے

گلگت۔بلتستان کے جنوب میں پاکستان کا زیر انتظام کشمیر، مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا، شمال میں افغانستان کی واخان راہداری، مشرق اور شمال مشرق میں چین کا سنکیانگ خطہ اور جنوب مشرق میں ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ واقع ہیں۔

دولاکھ کی آبادی سے زیادہ کا گلگت شہر اس خطے کا دارالحکومت ہے۔ گلگت بلتستان انتہائی پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں 8000 میٹر (کے ٹو اور نانگا پربت سمیت) کی اونچائی کی پانچ اور 7000 میٹر کی 50 سے زیادہ چوٹیاں موجود ہیں۔

قطبی خطوں سے باہر دنیا کے تین طویل ترین گلیشیئر بھی اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر سے سیاح اس خطے کا رخ کرتے ہیں اور یہاں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انتظامی طور پر گلگت بلتستان کو تین ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں بلتستان، گلگت اور دیامیر شامل ہیں۔ بلتستان اور گلگت چار، چار اور دیامیر دو اضلاع پر مشتمل ہیں۔

گلگت بلتستان دنیا کی 6میں 4بڑی ایٹمی قوتوں پاکستان، چین، بھارت اور روس کے درمیان واقع ہے جبکہ افغانستان میں سپرپاور امریکا کی موجودگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر چہ یہ خط 28ہزار مربع میل پر پھیلے ہوئے 20لاکھ افراد کا مسکن ہے، مگر خطے کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت نے خطے کو 28لاکھ مربع میل رقبہ اور کروڑوں کی آبادی رکھنے والے ملک سے زیادہ اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ گلگت بلتستان کی یہ اہمیت صدیوں سے ہے، بلکہ مستقبل کے حوالے سے اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام عالمی قوتوں کی نظریں خطے پر لگی ہوئی ہیں۔

یہ خطہ 73سے75ڈگری مشرقی طول بلد اور 35سے37ڈگری شمالی عرض بلدکے درمیانی علاقے پر محیط ہے۔ گلگت بلتستان بنیادی طور پر 2ریجن پر مشتمل ایک خطہ ہے، جس کے 6اضلاع، 20تحصیل اور 10سب ڈویژن ہیں۔ گلگت ریجن 4اضلاع گلگت، دیامر، غذر اور استور، جبکہ بلتستان ریجن 2اضلاع سکردو اور گنگ چھے پر مشتمل ہے۔ دونوں ریجن میں مختلف مکاتب فکر اور زبانوں کے لوگ آباد ہیں۔ خطے کی سب سے بڑی زبان شیناہے، جو ضلع دیامر اور استور میں 100فیصد، ضلع گلگت میں تقریباً50فیصد، ضلع غذر میں 40فیصد، سکردو میں 10فیصد اور گنگ چھے میں 5فیصد بولی جاتی ہے۔

دوسری بڑی زبان بلتی ہے جو بلتستان ریجن کے 2اضلاع سکردو اور گنگ چھے میں بالترتیب 90اور 95فیصد بولی جاتی ہے۔ تیسری بڑی زبان بروشسکی ہے جوضلع گلگت میں 30 فیصد اور غذر میں 15فیصد بولی جاتی ہے۔ چوتھی زبان کھوار ہے جو ضلع غذر میں 45فیصد اور ضلع گلگت میں 5فیصد بولی جاتی ہے، جبکہ وخی ضلع گلگت میں 15فیصد بولی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر پورے خطے میں شینا 50فیصد، بلتی 30فیصد، بروشسکی10فیصد، کھوار اور وخی 10فیصد بولی جاتی ہے۔

بلتستان ڈویژن میں شامل اضلاع سکردو ، شیگر ، کھرمنگ اور گھانچے ہیں جبکہ گلگت ڈویژن گلگت، غیزر، ہنزہ اور نگر نامی اضلاع پر مشتمل ہے۔ اسی طرح دیامیر ڈویژن کے دو اضلاع میں دیامیر اور استور شامل ہیں۔

گلگت بلتستان کو شروع دن سے جن آئینی مسائل کا سامنا کرناپڑا وہ کچھ اس طرح ہےکہ نومبر1947میںمقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت ڈوگرہ سرکار کو بدترین شکست دے کر اس خطے کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئی اور16نومبر1947کو الحاق پاکستان کا مرحلہ بھی مقامی قیادت کی مرضی و منشا پراحسن طریقے سے تکمیل پاتا ہے۔ سردار عالم گلگت کے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر ہوتے ہیں اور اس علاقے کو ایجنسی میں تبدیل کرکے ایف سی آرکا نفاذ کیا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر اس کے مذکورہ فیصلے کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن سیاسی ارتقاء کا یہ پہلا قدم عوام کو ایک نئے دور سے آشنا کراتا ہے اور یہ سلسلہ 1949تک چلا جاتا ہے ،

28اپریل 1949کو دو کشمیری رہنمائوں سردار ابراہیم اور غلام عباس کے ساتھ وزیر بے محکمہ مشتاق گورمانی کے دستخطوں سے ایک معاہدہ طے پاتا ہے جسے معاہدہ کراچی کہتے ہیں۔ اس معاہدے کی رُو سے یہ خطہ( گلگت بلتستان) انتظامی طور پر ریاست پاکستان کے زیرِ انتظام آجاتا ہے۔ ایوب خان کے زمانے میں گلگت بلتستان کو پہلی مرتبہ جمہوری تصور دیا جاتا ہے اور یوں 1960کی دہائی میں زرعی صنعتی پروگرام کے نام پر ایک نئے سیاسی نظام کی شروعات ہوتی ہیں۔

گلگت بلتستان میں بنیادی جمہوریت کے نام پر ایک ادارہ 1961میں بلتستان اور 1964میں گلگت میں قائم ہوتا ہے جس کے تحت پہلی دفعہ یونین کونسلیں ،تحصیل کونسلیں اور ضلع کونسلیں تشکیل دے کر بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عوامی نمائندوں کا انتخاب ہوا اس عمل سے عوام میں جمہوری رویے پروان چڑھنے لگے جبکہ عوام کا اعتماد ریاست اور ریاستی اداروں پر پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔

1970کی دہائی تک ارتقاء کایہ عمل اسی طرح جاری رہا مگر 1970میں پہلی بار سیاسی اصلاحات کے ساتھ گلگت بلتستان میں ایک مشاورتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کونسل کے انتخابات 30دسمبر 1970کو منعقد ہوئے اور کُل 21منتخب و نامزد اراکین سامنے آئے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے گلگت بلتستان کی سیاست کو مزید ارتقائی عمل سے گزارتے ہوئے مشاورتی کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز کونسل رکھا اور خطے کا نام بھی جو کہ گلگت بلتستان تھا اب ناردرن ایریاز بن گیا۔

اس دور میں گلگت بلتستان میں2نئے اضلاع کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔اسی طرح شمالی علاقہ جات کونسل کی تیسری مدت کے انتخابات 11اکتوبر1979کو منعقد ہوئے،چوتھی مدت کے انتخابات 26اکتوبر 1983کو، پانچویں مدت کے انتخابات 11نومبر1987کو، چھٹی مدت کے انتخابات نومبر1991کو منعقد ہوئے جس میں ایک مذہبی طبقے نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا ،ساتویں مدت کے الیکشن اکتوبر1994میں منعقد ہوئے۔ یہ الیکشن پہلی دفعہ سیاسی جماعتی بنیادوں پر ہوئے کیونکہ اس سے قبل جتنے بھی الیکشن ہوتے رہے وہ یا تو آزاد انہ حیثیت سے ہوئے یا مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہوتے رہے۔

گلگت بلتستان کی جمہوری و سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب 1999-2000کے دوران اُس وقت کی وفاقی حکومت نے لیگل فریم ورک آرڈر1994 میں ایک ترمیم کے ذریعے ناردرن ایریاز کونسل کا نام تبدیل کرکے ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل رکھ دیا جبکہ پہلی مرتبہ سپیکر کے عہدے کے علاوہ تین خواتین کی مخصوص نشستیں بھی مقرر کردی گئی اور 1999میںآٹھویں مدت کے انتخابات منعقد ہوئے۔

12اکتوبر2004کو نویں انتخابات منعقد ہوئے۔دسویں انتخابات کے انعقاد سے قبل جنرل(ر)پرویز مشرف کے دور میں گلگت بلتستان میں سیاسی عمل کو مزید مضبوط کرنے کا فیصلہ ہوا۔ گلگت بلتستان جو خطے کا پرانا نام تھا۔ اُسے عوامی و منتخب نمائندوں کی متفقہ رائے سے بذریعہ اسمبلی قرارداد بحال کیا گیا ،انہی دنوں جنرل (ر)پرویز مشرف کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور مرکز میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور آصف علی زرداری پاکستان کے صدربن گئے۔

چونکہ گلگت بلتستان سطح پر 2009میں دسویں انتخابات کا انعقاد ہونا تھا اس سے قبل پیپلز پارٹی کی قیادت نے جنرل (ر)پرویز مشرف دور کے گلگت بلتستان کے لئے تیار شدہ سیاسی اصلاحاتی مسودے میں ضروری ترامیم کے بعدایک صدارتی آرڈر جاری کیا جسے گورننس آرڈر 2009کا نام دیا گیا، اسی آرڈرکی رُو سے گلگت بلتستان کو پہلی بار صوبائی طرز کا نظام دیا گیااور گورنر و وزیر اعلیٰ جیسے منا صب متعارف کرائے گئے گو کہ اس آرڈر کو کسی بھی قسم کا آئینی تحفظ نہیں دیاگیا اس آرڈر کی کوکھ سے گلگت بلتستان کونسل کے نام سے ایک اور ادارے کا قیام عمل میں آیا جس کے چیئرمین وزیر اعظم پاکستان قرار پائے۔ کونسل کے کل ممبران کی تعداد12جن میں سے چھ وفاق سے نامزد اورچھ گلگت بلتستان اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے 52شعبوں کے اختیارات اور قانون سازی کا حق کونسل کو دے دیا گیا

جس پر گلگت بلتستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز نے اختیارات کی وفاق کو منتقلی پر تحفظات کا اظہار کیامگر دوسری جانب آرڈر2009کو سیاسی ارتقاء کا بڑا قدم بھی تسلیم کیا گیامگر آئینی حقوق قومی اسمبلی و سینیٹ میں نمائندگی کا مطالبہ نوجوان نسل کا پاپولر ٹرینڈ بنتا رہا۔اور عوامی مطالبے پر سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت بلتستان و فاٹا کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے الگ الگ آئینی اصلاحاتی کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایات جاری کیں۔فاٹا کے لئے تو خوش خبری سنادی گئی مگر گلگت بلتستان کے لئے آرڈر 2018کے نام سے مالی و سیاسی اختیارات دینے کا اعلان ہوا۔

اس نئے آرڈر میں گلگت بلتستان کونسل کے اختیارات کم کرکے صوبے کے سپرد کئے گئے اور کونسل کی محض مشاورتی حیثیت برقرار رکھی گئی۔ تاہم مذکورہ آرڈر کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں ملی کیونکہ گلگت بلتستان کی نوجوان نسل وفاق کے بڑے اداروں میں نمائندگی چاہتی ہے۔ اس آرڈر کو بعض مقامی شخصیات نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کچھ سماعتوں کے بعد وفاقی حکومت کو تنبیہہ کی کہ وہ جلد از جلد گلگت بلتستان کی محرومیوں کے خاتمے کے لئے سرتاج عزیز کی سفارشات کو رپورٹ کی شکل میں عدالت میں پیش کریں یا خود حکومت گلگت بلتستان کے لئے آئینی،مالی و سیاسی اختیارات کا اعلان کرے۔ اِسی تناظر میں نئے منتخب وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک کمیٹی تشکیل دی

ویسے تو گلگت بلتستان کو ملک کا 5واں صوبہ بنانے کی باتیں زباں زدِ عام ہورہی تھیں دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ریاست آئین کے تحت عوامی آراء کو اہمیت دینے کی پابند ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام چاہتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کا ایک الگ 5واں صوبہ بنا دیا جائے تاہم اِس مطالبے پر عمل درآمد میں حکومت کو کچھ مجبوریاں درپیش ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی طرف گلگت بلتستان کے عوام بے حد مثبت سوچ کے ساتھ دیکھ رہے تھے پھر کیا ہوا کہ گلگت بلتستان کے قومی دن کی اہم تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا واحد وزیراعظم ہوں جو گلگت بلتستان کے قومی دن کی تقریب میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ آئندہ ہر سال اس تقریب میں شریک ہوا کروں گا۔

اوریوں 73 سال سے ایک پچیدہ معاملہ عمران خان نے حل کرکے ثابت کردیا کہ وہ مملکت پاکستان کو مضبوط سے مضبوط بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.