fbpx

گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

@rohshan_Din