fbpx

پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں گزشتہ تین برس میں غیرمعمولی اضافہ

اسلام آباد: وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے آب و ہوا میں تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے سے جھیلیں بننے میں غیرمعمولی اضافہ ہو ہے-

باغی ٹی وی : کوہ پیمائی، سیاحت اور بین الاقوامی یومِ کوہ کی مناسبت سے منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے آب و ہوا میں تبدیلی، ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ عالمی تپش میں اضافے سے گلگت بلتستان میں گلیشیئر پگھلنے سے بننے والی جھیلوں میں گزشتہ تین برس میں پانچ گنا تک اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

جی ڈی پی تاریخ کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پارلیمانی سیکرٹری کامرس

ملک امین اسلم نے کہا کہ بقیہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں اوسط درجہ حرارت میں دوگنا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے اس کی وجہ یہاں کے قدرتی خدوخال اور ارضیات ہیں اور’ نشیبی کیفیات کی وجہ سے شمال میں رونما ہونے والی آفات پورے ملک میں پھیل جاتی ہیں ۔

ایفل ٹاور سے بڑا سیارچہ چند روز میں زمین کے مدار میں داخل ہوگا

ملک امین کے مطابق کہ گلیشیئروالی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلاب ( جی ایل او ایف) ٹو منصوبے کے تحت پگھلتے ہوئے گلیشیئرکا ڈیٹا جمع کیا گیا ہے جس سے قدرتی سانحات سے بچاؤ اور تحفظ کی مناسب منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

انہوں نے کہا کہ جی ایل او ایف کی وجہ سے ملک کو درپیش ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں کیونکہ موسمیاتی شدت والی ان آفات سے ان کے راستے میں آنے والا 70 فیصد انفرااسٹرکچر بری طرح تباہ ہوجاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

ملک امین اسلم کے مطابق قدرتی اور فطری حل کی بدولت بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو کم کیا جاسکتا ہے سطح سمندر سے 14000 فٹ کی بلندی پر موجود نیشنل پارک کو وسیع کرتے ہوئے، تمام پارکس کے درمیان رابطے کا ایک کوریڈور بنا کر اس مسئلے کا قدرتی نسخہ ممکن ہے کوپ 26 کانفرنس میں دنیا نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے اور پاکستان نے جی ایل او ایف جیسے مظاہر کی تباہی اور معاشی بوجھ سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔

50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

اس موقع پر یو این ڈی پی کے سربراہ نیوٹ اوسبی نے کہا کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے منتخب اضلاع میں یو این ڈی پی پاکستان نے گلییشئر اور ان کے پگھلنے کا سائنسی مطالعہ کیا ہے اس ضمن میں ارلی وارننگ، مانیٹرنگ اور زراعت میں مدد گار ٹیکنالوجی اور سینسر نصب کئے جارہے ہیں۔

7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت