fbpx

عالمی تبدیلیوں، وبا کی وجہ سے عالمی معیشت کی بحالی سست ہے، چینی صدر

واشنگٹن :“عالمی ترقی: مشترکہ مشن اور شراکت” کے موضوع پر تھنک ٹینک اور میڈیا کے اعلیٰ سطحی فورم کا بیجنگ میں افتتاح ہوا۔ سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے شعبہ تشہیر کے سربراہ ہوانگ کھن منگ نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی،اور صدر شی جن پنگ کی طرف سے بھیجا گیا تہنیتی خط پڑھ کر سنایا ۔

چینی میڈ یا کے مطا بق صدر شی جن پنگ نے اپنے خط میں کہا کہ اس وقت ایک صدی میں آنے والی سب سے بڑی عالمی تبدیلیوں اور وبا کی وجہ سے ، عالمی معیشت کی بحالی سست ہے، ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان ترقیاتی فرق مزیدبڑھ گیا ہے۔ پوری دنیا کو ایک مشکل وقت کا سامنا ہے۔ عالمی ترقی کا فروغ انسانوں کا مشترکہ معاملہ ہے۔

اس لئے چین نے عالمی ترقیاتی انیشیٹیو پیش کیا، جس کے مطابق چین ، عوام کو اولین حیثیت دیتے ہوئے تمام ممالک کے ساتھ ، جامعیت، مشترکہ مفادات، جدت ، انسان اور فطرت کی ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کو برقرار رکھتے ہوئے، ترقی کو عالمی ایجنڈے پر ترجیحی حیثیت دینے کو فروغ دے گا،اقوام متحدہ کے ۲۰۳۰ پائیدار ترقی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو بڑھائے گا اور زیادہ مضبوط، سبز اور مثبت عالمی ترقی کو فروغ دے گا۔

ہوانگ کھن منگ نے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے نشاندہی کی کہ صدر شی جن پھنگ کے تہنیتی خط میں عالمی ترقی کو فروغ دینے کی صورت حال اور درپیش چیلنجوں کی وضاحت کی گئی ہے اور عالمی ترقی کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے تصورات اور تجاویز کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے، اس فورم کو اچھی طرح سے چلانے اور ترقیاتی قوتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اہم رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

اس فورم کی میزبانی چین کی ریاستی کونسل کے پریس دفتر نے کی تھی، اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز، ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز، اور چائنا میڈیا گروپ کے تعاون سے فورم کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں دنیا بھر کے 60 سے زائد ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے 200 سے زائد نمائندوں نے آن لائن اور آف لائن شرکت کی۔

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن، ریاستی کونسل کے نائب وزیر اعظم لیو حہ نے امریکی وزیر خزانہ جینیٹ یلین کے ساتھ ورچوئل ملاقات کی۔ دونوں فریقوں نے میکرو اکنامک صورتحال اور عالمی صنعتی چین و سپلائی چین کے استحکام سمیت دیگر موضوعات پر عملی اور واضح انداز میں خیالات کا تبادلہ کیا۔

دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ موجودہ عالمی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان میکرو پالیسیوں کی مفاہمت اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مشترکہ طور پر عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کے استحکام کو برقرار رکھنا چین اور امریکہ اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہے۔ چین نے امریکہ کی طرف سے چین پر عائد اضافی محصولات اور پابندیوں کے خاتمے اور چینی کمپنیوں کے ساتھ منصفانہ سلوک جیسے مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے بات چیت اور رابطے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

3 جولائی کو امریکی ریاست اوہائیو کی پولیس نے چند روز قبل اکرون شہر میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک کیے جانے والے ایک افریقی نژاد امریکی شخص جیرلینڈ واکر کی لائیو ویڈیو جاری کی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ آٹھ پولیس اہلکاروں نے 90 سے زیادہ گولیاں چلائیں، اور فرانزک نے تصدیق کی کہ واکر کے جسم پر تقریباً 60 زخم تھے۔

4 جولائی کو امریکہ میں یوم آزادی منایا جارہا ہے لیکن اسی موقع پر واکر کے خون سے اس جشن پر ایک تاریک سایہ چھاگیا ہے۔ اکرون میں پولیس کی سفاکی کے خلاف متعدد مظاہرے کیے گئے ہیں اور وہاں یوم آزادی کی تقریب کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

“میپنگ پولیس وائلنس” نامی ویب سائٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، امریکہ میں قانون کا نفاذ کرنے کے دوران پولیس تشدد کے باعث 2020 سے لے کر اب تک 2,563 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 565 افریقی نژاد امریکی ہیں یہ تعداد کل تعداد کے 22 فیصد سے زیادہ ہے۔

امریکی طرز کے نظام میں نسل پرستی کی جڑیں امریکی معاشرے میں بہت گہرائی تک پیوست ہیں۔ اس سال جون میں، کیلیفورنیا کی ایک خصوصی ورکنگ ٹیم نے 500 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ آج بھی امتیازی قوانین اور طرز عمل افریقی نژاد امریکیوں کو رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار سمیت دیگر شعبوں میں متاثر کررہے ہیں ۔

ہر جگہ پائے جانے والے امتیازی سلوک اور جبر کے پیچھے نہ صرف غلامی کی مجرمانہ تاریخ، سفید فام بالادستی کا نسلی ڈھانچہ اور سماجی ماحول وغیرہ کے عوامل موجود ہیں، بلکہ یہ امریکی سیاستدانوں کی پارٹی مقابلے بازی اور موثر حکمرانی میں ناکامی کا نتیجہ بھی ہے۔امریکہ میں اس سال وسط مدتی انتخابات ہوں گے اور دونوں جماعتیں اب سوچ رہی ہیں کہ ووٹ کیسے حاصل کیے جائیں؟ مگر کوئی بھی نہیں چاہتا کہ وہ اقلیتوں کے مطالبات سنیں اور نسل پرستی کے مسئلے کو حل کیا جائے۔