fbpx

گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

کوریا کے ماہرین نے گرمیوں کا موسم 3 ہفتے طویل ہونے کا انکشاف کیا ہے-

باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’اینوائرونمنٹل ریسرچ لیٹرز‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےمطابق، کوریا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو دوسرے کئی مسائل کے ساتھ ساتھ گرمیوں کا موسم بھی 3 ہفتے طویل ہوجائے گا –

پوہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماحولیات کے پروفیسر، ڈاکٹر سونگ کی مِن اور ان کے شاگرد، بو جونگ پارک نے مختلف ماحولیاتی ماڈلز اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں دستیاب معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک کمپیوٹر سمیولیشن تیار کی ہے۔

ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

اس سمیولیشن سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں صنعتی انقلاب سے پہلے کے اوسط سے صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو گرمیوں کے موسم کا دورانیہ 3 ہفتے (21 دن) تک بڑھ جائے گاجس کے نتیجے میں اوربھی کئی مسائل پیدا ہوں گے جن کے بارے میں فی الحال ہم سوچ بھی نہیں سکتے فی الحال ساری دنیا میں گرمیوں کا موسم 91 دن کا ہوتا ہے جو عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے کے بعد 112 دن تک پھیل جائے گاگرمیوں کی طوالت کا سب سے زیادہ اثر خطِ استوا (ایکویٹر) کے قریب اور بحیرہ روم سے متصل علاقوں پر سب سے زیادہ ہوگا جو مشرقی ایشیا سے لے کر وسطی امریکا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

ماہرین مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ اضافہ 1.5 ڈگری یا اس سے زیادہ ہوگیا تو گلیشیرز کے پگھلنے، سطح سمندر بلند ہونے، غیرمعمولی بارشوں اور طویل خشک سالی سمیت کئی مسائل ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے اس سب کے باوجود انسان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور زمین کے ماحول پر رحم کھانے کو بالکل بھی تیار نہیں۔ اسی بناء پر خدشہ ہے کہ 1.5 ڈگری کا اضافہ ہمارے سابقہ اندازوں سے بہت پہلے ہوجائے گا اور پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچے گا۔

بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

گرمیوں کا دورانیہ بڑھنے کے علاوہ، عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے سے جہاں سمندروں کی سطح بلند ہوگی وہیں دنیا کی 50 فیصد آبادی کو شدید آبی قلت کا سامنا بھی ہوگا تاہم ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ہم اس اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو گرمیوں کے دورانیے میں اضافے کو 12 سے 13 دن تک محدود کیا جاسکے گا البتہ، بہتر یہی ہے کہ درجہ حرارت بالکل نہ بڑھنے دیا جائے تاکہ ماحولیاتی مسائل مزید سنگین نہ ہوں۔

چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق