fbpx

پاکستانی وزیراعظم کی تعریف پر گوتم گھمبیربھی نوجوت سنگھ سدھو پر برس پڑے

بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابق بھارتی کرکٹر اورہندوستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت’کانگریس‘ کے رہنمانوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرنا اور’بڑابھائی‘ کہنا مہنگا پڑ گیا-

باغی ٹی وی :کرتار پور پاکستان پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ عمران خان ذہین انسان ہیں ، وہ میرا بڑا بھائی ہے، اس نے بہت کیا ہے,انقلابی وزیر اعظم خطے کی قسمت بدل سکتے ہیں, عمران خان نے مثبت اقدامات کئے ،یورپین ممالک نے جنگ کے بعد اپنی کرنسی ایک کر دی، آج یورو دنیا کی مضبوط ترین کرنسی میں سے ایک ہے، شاہراہ ریشم 34 ممالک کو جاتا ہے اور تجارت کا بڑا راستہ ہے، سال 2019ء تک پاکستان اور بھارت کے مابین بھی تجارت جاری رہی ، تجارت سے پاکستان اور بھارت کو فائدہ ہو گا ، دوریاں ختم کرنےکےلیےاقدامات کرنا ہوں گے، پاکستان سے بڑی مارکیٹ کہیں نہیں، لاہور اور گورداسپور کےدرمیان تجارت کھلےتو خوشی ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان کو بڑا بھائی کہنے اور تعریف کرنے پر مودی کے حامی آگ بگولہ ہو گئے اور نوجوت سنگھ سدھو پربے جا تنقید کی بی جے پی نے نوجوت سنگھ سدھوکیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا سابق بھارتی کرکٹر اور بی جے پی کے وزیر گوتم گمبھیربھی اُن پر برس پڑے-


سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں گوتم گمبھیر نے نوجوت سنگھ سدھو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اپنے بیٹے یا بیٹی کو بارڈر پر بھیجیں اور پھر اُس ریاست کے سربراہ (عمران خان) کو اپنا بڑا بھائی کہیں گوتم گمبھیر نے نوجوت سنگھ سدھو کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)نےنوجوت سنگھ سدھو پرکڑی تنقید کرتےہوئےکہاتھا کہ سدھو کا پاکستانی وزیراعظم کےحق میں بیان کروڑوں بھارتیوں کے لئے باعث تشویش اورکانگریس کی سوچی سمجھی سازش ہے، سدھو نے یہ بیان راہول گاندھی کے کہنے پر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ترجمان سمبت پاترا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سدھو نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان میرے بڑے بھائی کی طرح ہیں،سدھو پاکستان سے رشتہ بڑے بھائی تک لے آئے ہیں، وہ ماضی میں بھی پاکستان کی تعریف کرتے رہے ہیں، اس سے قبل کانگریس لیڈر سلمان خورشید اور منی شنکر ایر بھی اپنے بیانات میں ہندوتوا کی گستاخی کرچکے ہیں، اس سلسلے میں سدھو کا بیان یونہی نہیں آیا، یہ کانگریس کی سوچی سمجھی سازش ہے،بتایا جائے کہ کیا پریانکا گاندھی بھی پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو اپنا بڑا بھائی مانتی ہیں؟۔

انہوں نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پنجاب ایک حساس سرحدی ریاست ہے،جموں و کشمیر اور پنجاب جیسی ریاستوں میں دراندازی کی کوششیں جاری ہیں، پاکستان ہمیشہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، سرحدی ریاست کے لیڈروں میں حب الوطنی کا جذبہ ہونا چاہیے، انہیں اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ ہندوستان کے بارے میں کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا؟

ان کا کہنا تھا کہ ’سدھو انڈیا کے لیے اور پنجاب کے لیے مناسب نہیں اور پنجاب ان سے زیادہ بہتر لیڈرشب کا حقدار ہے پاکستان کے وزیرخارجہ نے حال ہی میں ہندو توا کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور بی جے پی ترجمان کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ بات کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی سے مستعار لی ہے۔

جبکہ مودی سرکارکے انتہاپسند میڈیا نے سدھو کیخلاف زہراگلتے ہوئے انہیں غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کے نمائندے نہیں بلکہ عمران خان کی کابینہ کے رکن ہیں۔ سدھوہمیشہ سے پاکستان کے طرفدار رہے ہیں۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!