fbpx

ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے کیسز :گوہر رشید کا اعلیٰ حکام سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ

پاکستانی اداکار گوہر رشید نے ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

باغی ٹی وی : معروف ویب چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے گوہر رشید نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے بات چیت کی۔گوہر رشید نے کہا کہ ’ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا افسوسناک واقعہ سامنے آجاتا ہے اور یہ واقعات بڑھتے ہی جارہے ہیں کیونکہ ملزمان اآزاد ہیں، ان کے خلاف ایکشن نہیں لیا جارہا ہے۔اداکار نے کہا کہ اب حد سے زیادہ ہورہا ہے اور میں یہاں ہمارے اعلیٰ حکام سے صرف یہی اپیل کروں گا کہ براہِ کرم اب سخت کارروائی کریں،ہمارے پاس قانون ہے، ثبوت ہے، ہر چیز ہے لیکن اس کے باوجود بھی ملزمان آزاد ہیں۔

سیف علی خان کا شادی کے بارے میں خدشات کا اظہار

گوہر رشید نے کہا کہ براہ کرم اس سنگین اور اہم مسئلے کو سنجیدہ لیا جائے اور سخت ایکشن لیکر ملزمان کو مثالی سزا دی جائے تاکہ کوئی دوسرا شخص یہ جرم کرنے سے پہلے کئی بار سوچے،اعلیٰ حکام ایکشن لیں تاکہ ہم خود کو فخریہ پاکستانی کہنے پر خوش ہوسکیں۔

گوہر رشید نے برطانوی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں پاکستانی ڈراموں میں خواتین پر تشدد دکھائے جانے کے بارے میں بات کی انہوں نے کہا ٹی وی پر ہم عورت کی خودمختاری پر بات کیوں نہیں کرتے ہم اپنے ڈراموں میں یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ عورت اپنا دفاع خود کرسکتی ہے اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں ہم اپنے ڈرامے کے کسی سین میں یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ اگر مرد نے عورت کو تھپڑ ماراہے تو عورت بھی پلٹ کر مرد کو زوردار تھپڑ رسید کرے۔

گوہر رشید کا انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ وہ ٹی وی اسکرین پر خواتین پر تشدد دکھانے کے خلاف ہیں لیکن اس سین کو کرنے کا مقصد لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ اگر کوئی آدمی کسی عورت کو تھپڑ مارتا ہے تو عورت کسی سے کمزور نہیں ہے عورت کو اپنا دفاع کرنا چاہئے اسی لیے میں نے یہ سین کیا۔

ایسی کوئی اداکارہ نہیں جو مجھے فیشن میں ٹکر دے سکے نوشین شاہ

گوہر رشید نے کہا ٹی وی سب سے زیادہ گھریلو عورت دیکھتی ہے، ہمارے ہاں ٹی وی ڈراموں کا بیانیہ عورت کی بے بسی اور اس پر ہونے والے ظلم کے گرد گھومتا ہے۔ ہم ٹی وی پر عورت کی خودمختاری پر بات کیوں نہیں کرتے، ہم یہ کیوں نہیں دکھاتے کہ عورت اپنا دفاع خود کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا الیکٹرونک میڈیا لاشعوری طور پر ناظرین پر اثر انداز ہوتا ہے کہ جو دکھایا جا رہا ہے وہ ٹھیک ہے اور ہم عورت کی تکلیف کو ایک حقیقت بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ہمیں اس بیانیے کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم نے اپنے ناظرین کو اسکینڈلز، سنسنی اور منفی کرداروں کا عادی بنا دیا ہے۔ ہمیں اپنے ناظرین کو دوبارہ سے سیکھانا پڑے گا کہ عورت کا معاشرے میں ایک مضبوط مقام ہے۔ جتنی ضرورت عورت کو مرد کی ہے اتنی ہی مرد کو بھی ہے۔

گوہر رشید کا مزید کہنا تھا ہم نے گھریلو عورت کے لیے یہ قابل قبول بنا دیا ہے کہ اگر مرد آ کر اسے تھپڑ مار دیتا ہے تو یہ عام بات ہے جو کہ بہت غلط ہے۔ اب ہمیں اپنے ڈراموں کے ذریعے یہ تعلیم دینے کی ضرورت ہے کہ ضروری نہیں کہ عورت ہمیشہ مظلوم ہی ہوں، کسی پر انحصار کر رہی ہو، وہ ایک مضبوط شخصیت کی مالک اور خود مختار ہو سکتی ہے۔

وسیم اکرم کا نیوزی لینڈ کے دورہ منسوخی پر شدید مایوسی کا اظہار

واضح رہے کہ مرزا گوہر رشید کے نجی چینل سے نشر ہونے والے ڈرامے ’’لاپتہ‘‘ کا ایک سین آج کل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اس سین میں گوہر رشید اپنی بیوی فلک (سارہ خان) کو کسی بات پر تھپڑ مارتے ہیں اور سارہ روایتی بیویوں کے برعکس تھپڑ کھانے کے بعد رونے یا چپ کرکے بیٹھنے کے بجائے اپنے شوہر کو جوابی زوردار تھپڑ رسید کرتی ہے اور یہ کہہ کر دھمکاتی ہے کہ اگر دوبارہ تم نے مجھے تھپڑ مارا تو میں تمہارے ہاتھ توڑدوں گی۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!