بلوچستان یونیورسٹی سے چھی خبر آگئی : طلبہ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنا ملتوی

0
85

کوئٹہ :بلوچستان یونیورسٹی سے چھی خبر آگئی : طلبہ کی بازیابی کیلئے جاری دھرنا ملتوی ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ نے لاپتہ دو طالب علموں کی بازیابی کے لیے جاری دھرنا صوبائی حکومت کی یقین دہائی پر 15 دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔

احتجاج کرنے والے طلبہ نے بتایا کہ اس دوران یونیورسٹی بدستور بند رہے گی۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(بی ایس او) کے رہنما زبیر بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر لاپتہ طلبہ کو 15 دنوں میں بازیاب نہیں کروایا گیا تو احتجاج دوبارہ شروع ہوگا۔انہوں نے لاپتہ طلبہ کی بازیابی کی امید ظاہر کی کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے کردار ادا کرے گی۔

بلوچستان کے وزیر مواصلات اور حکومتی مذکراتی کمیٹی کے سربراہ عبدالرحمٰن کھیتران نے کوئٹہ بلوچستان یونیورسٹی کے طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مذکورہ پیش رفت کی تصدیق کی۔

انہوں نے یقین دلایا کہ طلبہ کے مطالبات پورے کیے جائیں گے لیکن طلبہ کی بازیابی تک یونیورسٹی بند رہے گی تاہم مطالبات جلد پورے کر کے یونیورسٹی کھول دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے 2 طالب علموں کے لاپتہ ہونے کے بعد کا احتجاج شروع ہوا اورمذاکراتی کمیٹی نے طلبہ تنظیموں سے ملاقاتیں کی اور طلبہ نے بھی بھرپور تعاون کیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے طلبہ باصلاحیت ہیں، صوبے میں پہلے ہی اتنی پسماندگی ہے، اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کے دروازے بند نہ ہوں۔

پریس کانفرنس کے دوران طلبہ کا کہنا تھا کہ حکومتی یقین دہانی کے بعد 15 روز کے لیے دھرنا مؤخر کر رہے ہیں، اگر 15 روز تک طلبہ بازیاب نہ ہوئے تو دوبارہ دھرنا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ حکومت ہمارے ساتھیوں کی بازیابی میں سنجیدگی سے کردار ادا کرے گی اور اس وقت ہم اپنا احتجاج ختم نہیں بلکہ ملتوی کر رہے ہیں۔

Leave a reply