fbpx

یوکرین سے لڑنے والے روسی فوجیوں کو خوشخبری سنا دی گئی

ماسکو: روس یوکرین میں لڑنے کے لیے تعینات فوجیوں اور ریاستی ملازمین کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا.غیرملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق ماسکو کی جانب سے کیف کے خلاف عسکری مہم کا حصہ بننے والے فوجیوں کی حوصلہ افزائی پر مشتمل اقدام ہے کیونکہ حالیہ چند ماہ کے دوران روس کو یوکرین میں متعدد جنگی مقامات پر شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

روس کا مغرب اور یورپ کوپیغام: ایٹمی آبدوزوں اور جنگی بحری جہازوں کی نمائش پیش کردی

 

 

کریملن کے ترجمان کے مطابق ٹیکس کا نیا اقدام ان تمام روسی فوجیوں سے متعلق ہے جو یوکرین کے چار علاقوں میں لڑ رہے ہیں جس میں ڈونیٹسک، لوہانسک، کھیرسن اور زاپوریزیا شامل ہیں۔ انہوں انسداد بدعنوانی کے قانون میں شامل استثنیٰ کا حوالہ دیا تھا جس کی تفصیلات روسی حکام نے بعد میں شائع کی گئی۔

یورپ دوہری مصیبت میں پھنس گیا:شدید سردی میں روس نےگیس سپلائی بھی کم کردی

 

ترجمان کریملن کے مطابق فوجیوں، پولیس، سیکورٹی سروسز کے ارکان اور چاروں خطوں میں خدمات انجام دینے والے دیگر ریاستی ملازمین کو اب “اپنی آمدنی، اپنے اخراجات، اپنے اثاثوں” کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

افغانستان کوامریکا، روس اورچین کےدرمیان اختلافات کا مرکز دیکھنا نہیں چاہتے،حامد…

 

روسی مراسلے کے مطابق یوکرین میں روسی افواج کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ “انعامات اور تحائف” وصول کریں اگر وہ “انسان دوستانہ کردار” کے حامل ہوں۔ ٹیکس ریلیف کا اطلاق خدمت کرنے والوں کے شراکت داروں اور بچوں پر بھی ہوگا۔