fbpx

گورننس ٹھیک کریں .تحریر :عرفان چودھری

وزیراعظم پاکستان عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً 3 سال پورے ہونے کو ہیں ۔ اگر پوری ایمانداری سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان ان حالات سے بہت بہتر ہے جن حالات میں عمران خان صاحب کو حکومت ملی تھی۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، ایف اے ٹی ایف اور ائی ایم ایف کا شدید دباؤ اور پابندیاں جکڑے کھڑی تھیں۔ سابقہ حکمران ایک باقاعدہ پلاننگ کے تحت ملک کی یہ حالت کر کے گئے تھے اور بہت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے قریبی حلقہ احباب میں کہتے تھے کہ عمران خان کو ایسا ملک دے کر جا رہے ہیں جہاں وہ ناکام ہو کر خود ہی بھاگ جائے گا اور پھر ہم تجربہ کاروں کو منتیں کر کے واپس لایا جائے گا کہ ملک سنبھالو اور پھر ہم اپنی شرائط پر آئیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول گئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات نیتوں کے حساب سے مرادیں پوری کرتی ہے۔ جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے نامراد رکھتی ہے اور جس کی نیت ٹھیک ہو اسے بامراد اور کامیاب ؤ کامران کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے بہت محنت کی، عمران خان صاحب نے تو شروع میں چھٹی تک نہیں کی اور دن رات محنت سے پاکستان کو ٹریک پر واپس لانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی۔ پاکستان کا امیج دنیا میں بہتر کیا، کرونا کی عالمی وبا کو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کامیابی سے ہینڈل کیا کہ دنیا ہماری مثالیں دینے پر مجبور ہو گئی۔ ہمسایہ ملک بھارت میں جو حال ہوا سب کے سامنے ہے لیکن ہماری قوم کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کی اصطلاح ہم نے دنیا کو دی۔ خارجہ پالیسی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں، ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ ازلی دشمن انڈیا کو نہ صرف دنیا میں ننگا کیا بلکہ تنہا بھی کر دیا۔ دشمن کے رات کے اندھیرے میں چھپ کر بزدلانہ حملے کا دن کی روشنی میں کامیاب جواب دیا۔ ایشیا میں پاکستان، چائینہ، روس، ترکی اور ایران کے ساتھ گروپ بنا کر انڈیا کو تنہا کر دیا ۔ فلسطین کے مسلئہ پر کامیاب سفارتکاری سے جنگ بندی کروائی، اپنا ہم خیال گروپ بنایا اور دنیا کو اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے بیباک طریقے سے پیش کیا ، امید ہے انڈیا جلد یا بدیر پاکستان اور ہمارے ہم خیال گروپ کی بات ماننے ہے مجبور ہو جائے گا۔ اسلامو فوبیا کو دنیا بھر میں وزیراعظم عمران خان نے اجاگر کیا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پوری دنیا کو بتایا کہ یہ ہمارا ایسا پوائنٹ ہے جس پر کمپرومائز نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کو پہلی بار حقائق پر مبنی جراتمندانہ جواب کے ساتھ زمینی اڈے دینے سے انکار کے ساتھ امریکی لڑائی اپنے ملک یا اپنی افواج کے ذریعے لڑنے سے انکار کر دیا۔ سابقہ حکمران پاکستان کو فیفٹ کی گرے لسٹ میں پھینک کر گئے تھے ، تحریک انصاف کی حکومت نے عملی اقدامات اور موثر قانون سازی کرتے ہوئے 27 میں سے 26 پوائینٹس پر عمل کیا اور بہت جلد 27 ویں ہوائینٹ پر بھی عمل کر کے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے قانون اسمبلی سے منظور کروایا اور جلد سینٹ سے منظور ی کے بعد 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں گے ۔ لانگ ٹرم پالیسیز بنائی گئیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اچھے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ کرپشن کو اتنے اچھے طریقے سے ایکسپوز کیا کہ اب عوام میں قابلِ قبول یہ بد فعل ایک گالی بن چکا ہے۔ بجلی کے نئے منصوبے کئی گنا کم قیمت پر شروع کیے گئے، اس وقت پاکستان میں چھوٹے بڑے 9 ڈیمز زیر تعمیر ہیں جن کی تکمیل پر نہ صرف بجلی انتہائی سستی اور وافر دستیاب ہو گی بلکہ ہمسایہ ممالک کو فروخت بھی کی جا سکتی ہے۔ ، گیس کم نرخوں پر خریدی گئی، انڈسٹری کو مراعات دیں۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری جو آخری سانسیں لے رہی تھی کو زندہ کیا اور اب نہ صرف انڈسٹری اپنی فل کیپیسٹی پر چل رہی ہے بلکہ ایک سال کے ایڈوانس آرڈرز موجود ہیں۔ کرونا وائرس میں دنیا کی معیشت تباہ ہوئی لیکن پاکستان نے اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا۔ جو پاکستان کل تک ماسک نہیں بنا سکتا تھا وہ اس وقت دنیا کو وینٹی لیٹر بیچ رہا ہے۔ کرونا ویکسین پاکستان میں بن رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان جدید جنگی جہاز جے ایف تھنڈر بنا کر بیچنا شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیرات، سیاحت سمندری راستے اور بندرگاہوں کے شعبوں کو صنعت کا درجہ دیا۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو مفت علاج کی جدید سہولیات کے پی کے میں مکمل اور پنجاب میں جزوی طور پر مل رہی ہیں جو جلد پوری قوم کو دستیاب ہوں گی۔ کسان کو پہلی دفعہ گنے اور گندم کے بہترین ریٹ ملے اور وقت پر ادائیگی ہوئی، اب کسان کارڈ کے ذریعے زرعی آلات، کھادیں ، ادویات اور بیج دستیاب ہیں ۔ ان سب اقدامات کے رزلٹ جلد ہی عوام کے سامنے آ جائیں گے اور اس کا ثمر ملک ؤ قوم کو ملنا شروع ہو جائے گا۔ اور بھی بہت سے ایسے قابل ذکر اقدامات ہیں جو ملک کی تاریخ بدل دیں گے لیکن آج میں محترم وزیراعظم عمران خان صاحب کی توجہ کچھ ایسے کاموں کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں جو ان کی فوری توجہ کے متمنی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب گورننس ملک کا بہت بڑا مسلہ ہے، گورننس میں پورے ملک اور خصوصاً پنجاب میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سفید پوش طبقے کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نے جتنا ریلیف دینے کی کوشش کی ، سبسڈی دی، یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج دیے ، ٹیکسوں میں چھوٹ دی لیکن مہنگائی کم نہیں ہوئی۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا مقابلہ مختلف مافیاز سے ہے جو ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ایسے طریقوں سے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں لیکن آپ کے پاس اختیار ہے، حکومتی مشینری ہے ، اس کا صحیح استعمال ان مافیاز کو لگام دے سکتا ہے۔ حکومت کے پاس ہر محکمے میں لوگ موجود ہیں لیکن یہ لوگ اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے ، ان کو ٹھیک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ پرائیس کنٹرول کمیٹیاں اور ادارے ملک بھر میں موجود ہیں لیکن برائے نام ۔ ان کو ایکٹو کرنا ، ان میں موجود کالی بھیڑوں کو فارغ کرنا اور ایسے اہل اور ایماندار افسروں کا آگے لانا ہی واحد حل ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاحب آپ نے سی سی پی او لاہور کی تعیناتی اور آئی جی پنجاب پولیس کی ٹرانسفر کے وقت بلکل ٹھیک کہا تھا کہ لوگ ہم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ کتنے آئی جی تبدیل کیے بلکہ یہ دیکھیں گے کہ عوام کو کتنی سکیورٹی دی۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے کہ لوگ یہ نہیں پوچھیں گے کہ مافیاز کا کیا رول تھا بلکہ لوگ دیکھیں گے کہ ہمیں ریلیف کیا ملا۔ ایسا صرف گورننس بہتر بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ جو آفیسر صحیح کام نہیں کرتے انہیں ہٹا کر نئے آفیسر تعینات کریں۔ بیوروکریسی میں بہت سے آفیسرز ایسے ہیں جنہیں کبھی ڈھنگ کی پوسٹنگ ملی ہی نہیں ، آپ انہیں اعتماد دے کر اعلی عہدوں پر لگائیں اور رزلٹ دیکھیں ۔ نئ چیزیں ضرور کریں لیکن موجود سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر کے آپ بہت سے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی وافر اور ارزان قیمت پر مہیا کرنا آپ کا منصبی فرض اور ذمہ داری بھی ہے ۔ اس کے لئے آپ صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی جوابدہ ہیں ۔

جب حکومت نے لاہور شہر کی سڑکوں کے ٹریفک سگنلز پر کیمرے نصب کیے اور ریڈ لائیٹ جمپ کرنے والوں کی گاڑی کی نمبر پلیٹ تصویر کے ساتھ آٹو میٹک سسٹم کے تحت جرمانے شروع کیے تو عوام ٹریفک لائٹ کی پابندی کرنا شروع ہو گئی تھی اور ٹریفک کا نظام کافی بہتر ہو گیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس سسٹم کو پتہ نہیں کیا ہوا کہ اب پھر سے سڑکوں پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ ایک سسٹم جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے کروڑوں لگا کر بنایا گیا تھا اسے کیا ہوا ؟ کیوں اس کا ڈر عوام کے سر سے اتر گیا ؟ ایک بنے بنائے سسٹم کو کس نے خراب یا بند کر دیا ؟ دنیا بھر میں ٹریفک سگنلز پر کوئی ٹریفک پولیس اہلکار نہیں ہوتا لیکن کسی کی مجال نہیں کہ رات کے پچھلے پہر خالی سڑک پر بھی ریڈ لائیٹ جمپ کر جائے۔ وزہر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب کے لاہور میں اگر کوئی سڑک ٹوٹ جائے تو مہینوں اس کی چھوٹی سی مرمت نہیں ہوتی، آہستہ آہستہ وہاں گڑھا پڑ جاتا ہے جو کہ جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے لیکن سڑک کی معمولی مرمت کی بجائے وہاں پر مہینوں بعد نئی سڑک بنانی پڑتی ہے۔ وزیراعظم صاحب یہ چھوٹے چھوٹے کام بڑا ایمپیکٹ ڈالتے ہیں۔ ان سے ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ریاست مدینہ کہنے سے نہیں عملی مظاہرے سے بنتی ہے۔ آپ ریاست مدینہ کے داعی ہیں آپ کو اپنا سسٹم بہتر کرنا پڑے گا ورنہ پاکستان کی عوام جو جاہل اور ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ کرپٹس کو دیکھ دیکھ کر اپنی حیثیت میں خود بھی کرپٹ ہو چکی ہے اور کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کی فلاسفی پر یقین رکھتی ہے، ان کو گمراہ کرنا جھوٹے اور چور اپوزیشن لیڈرز اور کرپٹ مافیاز کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ لیکن جو عوام آپ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اگر وہ بھی دل برداشتہ ہو گئے تو اس پاک دھرتی کے ساتھ بہت زیادتی ہو گی۔ خدارا دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ گورننس کی طرف بھی توجہ دیں ۔ اگر آپ کی ٹیم میں سے کچھ لوگ ڈلیور نہیں کر پا رہے تو ضد اور انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے انہیں ریپلیس کریں۔ اپنے اردگرد کالی بھیڑوں کو پہچان کر فارغ کریں، اہل لوگوں کو آگے لائیں۔ جہاں ضرورت ہے قانون سازی کریں لیکن ان مسائل سے پہلو تہی نہ کریں ۔ قوم کو یقین ہے کہ آپ ایماندار اور ارادے کے پکے ہیں۔ ہار مارنے والے نہیں۔ آپ نے نئی نسل کو اپنی مسلسل جدو جہد کے دوران جو سکھایا ہے اس کے مطابق نوجوانوں کی ذہن سازی ہو چکی ہے۔ ان کو آپ سے بہت توقعات ہیں ۔ خدارا ان کی امیدوں پر پانی نہ پھرنے دینا ۔ اگر یہ مایوس ہو گئے تو ان کا سسٹم اور انسانیت سے اعتماد اٹھ جائے گا جس کا نتیجہ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو گا جو کہ ملک دشمنوں کی خواہش اور ایجنڈا بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستانیوں کا حامی و ناصر ہو