fbpx

گورنر ہاؤس پر پولیس کے ذریعے غنڈوں نے قبضہ کر لیا ہے،گورنر کا صدر مملکت سے رابطہ

لاہور: گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس پر پولیس کے ذریعے غنڈوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

باغی ٹی وی : گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے رابطہ کیا اور انہیں کہا کہ گورنر ہاؤس پر پنجاب پولیس کے ذریعے غنڈوں نے قبضہ کر لیا ہے اجازت کے بغیر گورنر ہاؤس میں سینکڑوں پولیس اہلکار بھیجے گئے، گورنر ہاؤس پر انتظامی طور پر آئین شکنی کی گئی گورنر ہاؤس میں ہونے والی آج کسی سرگرمی کو گورنر کی اجازت حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے کی ہدایت کر رکھی ہے، حمزہ شہباز کی تقریب حلف برداری آج ساڑھے 11 بجے گورنر ہاؤس میں ہو گی جس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے-

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے عثمان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب استعفیٰ مسترد کیے جانے کے بعد گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

ایک طرف لاہور ہائیکورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو آج نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کو حلف لینے کا حکم دے رکھا ہے تو دوسری جانب گورنر پنجاب نے آج ہی عثمان بزدار کا استعفیٰ آئینی اعتراض لگا کر مسترد کر دیا ہے۔

اس سارے معاملے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر کے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے مال روڈ پر گورنر ہاؤس کی طرف جانے والے راستے بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ واٹر کینن بھی گورنر ہاؤس کے باہر موجود ہیں۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کروائیں گے اور صرف ان ہی افراد کو گورنر ہاؤس آنے کی اجازت دی جائے گی جنہیں دعوت نامے دیئے گئے ہیں۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پیدا ہونے والی صورت حال میں گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔

سی سی پی او نے گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور اطراف میں سکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس آنے والے مہمانوں کو بھرپور سکیورٹی فراہم کی جائے گی، غیرمتعلقہ شخص یاگاڑی کو گورنر ہاؤس میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ادھر آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عثمان بزادر کا اجلاس غیر قانونی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ہو چکا ہے اور ہائیکورٹ کے احکامات بھی آ چکے ہیں سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور نے عثمان بزدار کو بلا کر ان سے استعفے کی تصدیق کی تھی، اس وقت محمود الرشید اور پرویز الٰہی بھی موجود تھے، ان دونوں کی موجودگی میں چوہدری سرور نے عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کیا تھا۔