fbpx

حکومت کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد:حکومت نے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کو مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈاکٹر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کے گورنر کی حیثیت سے مدت ملازمت میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی اور وہ آج عہدہ چھوڑ دیں گے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے لکھا کہ بدھ سے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کی تین سالہ معیاد ختم ہو رہی ہے ، ان کی پاکستان کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، میں نے ان سے بات کی ہے اور انہیں حکومت کے فیصلے کے بارے میں بتایا ہے۔

 

وزیر خزانہ نے رضا باقر کے بارے لکھا کہ وہ ایک غیر معمولی قابل آدمی ہے اور ہم نے اپنے مختصر وقت میں ساتھ کام کیا، ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ مئی 2019ء میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سابق عہدیدار رضا باقر نے بطور گورنر اسٹیٹ بینک ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے گزشتہ روز رضا باقر کو تین سال کی مدت کے لیے گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔

اس سے قبل ہارورڈ اور بیکرلے یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر رضا باقر 2000ء سے آئی ایم ایف کے ساتھ منسلک تھے اور ابھی بطور سینیئر ریزیڈنٹ ریپریسینٹیٹو مصر میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر رضا باقر آئی ایم ایف مشن رومانیہ اور عالمی مالیاتی ادارے کے ڈیپٹ پالیسی ڈویژن کے سربراہ کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔