fbpx

سرکاری سکولز اضافی کمروں سے محروم

شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ذرائع کے مطابق بین الاقوامی ادارہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی خصوصی گرانٹ سے محکمہ بلڈنگز کے حکام کی غفلت کی بناء پر سرکاری سکولوں میں بروقت اضافی کمروں کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوسکا جس پر حکومت پنجاب کی طرف سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے

ذرائع نے بتایا ہے کہ پنجاب کے کئی اضلاع کے سرکاری سکولوں میں کمروں کی شدید کمی کے باؤجود طلباء اور طالبات درختوں کے سائے تلے اور کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں جس کے پیش نظر حکومت پنجاب اور فارن کامن ویلتھ ڈیپارٹمنٹ آفس جس کو ڈی ایف آئی ڈی کا نام بھی دیا جاتا ہے کا حکومت پنجاب کے ساتھ ایسے سکولوں کی ضرورت بڑی حد تک پورا کرنے کی خاطر کمروں کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا تاکہ تعلیمی اداروں کا انفراسٹکچر بہتر بنایا جاسکے تین ماہ قبل کمروں کی تعمیر کا کام بروقت مکمل کرنے کے لیے محکمہ بلڈنگز کے ایگزیکٹیو انجینئروں کو واضح ہدایات جاری کی گئیں تو انہوں نے یقین دھانی کروائی کہ اضافی کمروں کی تعمیر کا کام 31 دسمبر 2020ء تک مکمل ہو جائے گا

مگر بڑی تھوڑی تعداد میں سکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کا کام مکمل ہوسکا حالانکہ بین الاقوامی ادارہ کی طرف سے دی جانے والی گرانٹ میں سے 90 فیصد رقم محکمہ بلڈنگز کے ایگزیکٹیو انجینئروں کے اکاؤنٹس میں بھیج دی گئی تھی اس کے باؤجود اضافی کمروں کی تعمیر کا کام محکمہ بلڈنگز کے افسروں کی غفلت کی بناء پر 13 اضلاع شیخوپورہ بہاونگر بہاولپور ڈیرہ غازی خان فیصل آباد جھنگ قصور میانوالی مظفر گڑھ اوکاڑہ رحیم یار خان راجن پور اور پاکپتن شریف میں مکمل نہیں ہوسکا جس پر حکومت پنجاب نے محکمہ سکولز ایجوکیشن کے ذریعے محکمہ بلڈنگز کے متعلقہ ایگزیکٹیو انجینئروں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بارے میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور پروگرام ڈائریکٹر پی ایم آئی یو اور محکمہ فنانس پنجاب کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ بلڈنگز کے چیف انجینئروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ اضافی کمروں کی تعمیر کا کام ترجیہی طور پر مکمل کیا جائے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.