fbpx

ہاتھ باندھ کراورہمیں آئسولیٹ کرکے حکومت بنائی گئی:عمران خان

اسلام آباد: ہاتھ باندھ کراور ہمیں آئسولیٹ کرکے حکومت بنائی گئی ، قوم ساری صورت حال سے اچھی طرح واقف ہے اور میری قوم غیرت مند ہے اوراس عظیم قوم نے نہ پہلے ہندووں اور انگریزوں کی غلامی قبول کی اور نہ اب امریکنوں کی غلامی قبول کریں‌گے ، اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ساری قوم ’غلامی، امپورٹڈ حکومت نامنظور‘‘پرمتحد ہوچکی ہے، میں اینٹی امریکن نہیں، امریکا کو آزادانہ فیصلے کرنے والی حکومت کی عادت نہیں۔ روس سے تعلقات میں بہتری پر ہمیں بہت فائدہ ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سازش کے خلاف اوورسیز پاکستانیوں کو احتجاج کرنے پرخراج تحسین پیش کرتا ہوں، امریکا کوآزادانہ فیصلے کرنے والی حکومت کی عادت نہیں ہے، میں اینٹی امریکن نہیں ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ سے بڑے اچھے تعلقات تھے۔

اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین کا مستقبل زبردست ہے، ہم چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ تعلقات مزید بہترہوں، اُدھر امریکن کو مسائل تھے کہ تعلقات میں بہتری کیوں آ رہی ہے، افغانستان میں سرد جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے پر ہمارے روس سے تعلقات کبھی ٹھیک نہیں تھے، پہلی دفعہ روس کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہے تھے، اس کے لیے بہت دیر سے کوششیں کی جا رہی تھیں۔

عمران خان نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روس سے سستی گندم، 30 فیصد کم قیمت پرتیل مل رہا تھا، بھارت بھی روس سے سستا تیل لے رہا ہے حالانکہ نئی دہلی کے واشنگٹن کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات ہیں، میرے دورہ روس پر امریکا ناراض ہو گیا۔ ماسکو کیساتھ تعلقات میں بہتری پر ہمیں بہت فائدہ ہے کیونکہ آگے ملک میں گیس ختم ہو رہی تھی، اس کے لیے میری حکومت سے پہلے ہی حکومتیں گیس پائپ لائن پر بات کر رہی تھیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے امریکن کوعادت ہے جو حکم کریں پاکستان وہی مانے، دہشت گردی کی خلاف جنگ کی 15 سال مخالفت کرتا رہا، دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کو بہت زیادہ نقصان ہوا، سابق سربراہ نے ایک دھمکی پرامریکی جنگ کا ساتھ دیا۔ پاکستان کا نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، پرویز مشرف نے کتاب میں لکھا آرمٹیج نے دھمکی دی، مشرف امریکا کا پریشربرداشت نہیں کر سکا، امریکا کے کہنے پرقبائلی علاقوں میں فوج بھجوا دی گئی، دہشت گردی کی جنگ میں 80 ہزارجانیں اورفوجیوں کی شہادتیں ہوئی، میری خارجہ پالیسی کا مقصد کسی اور کی جنگ میں حصہ نہیں لینا، یہاں پرابلم بن گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کوسراہنے کے بجائے الزام لگائے گئے، ہمارے قبائلی علاقے اجڑ گئے، اب دوبارہ کہہ رہے تھے تو میں نے تو کبھی نہیں ماننا تھا، جولائی، اگست میں سمجھ گیا تھا کچھ پلاننگ ہو رہی ہے، عدم اعتماد کے دوران ہمارے لوگوں کو خریدا گیا، منصوبے کے تحت طاقتور فورسزبیٹھی تھی ان کو سزائیں نہیں ہونے دے رہی تھی، ہمارے سفیر کو دھمکی 22 کروڑعوام کی توہین ہے، کہا گیا اگرعمران خان بچ گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، دھمکی کے اگلے دن عدم اعتماد آ جاتی ہے، ملک میں میرجعفر، میرصادق اس سازش میں ملے ہوئے تھے، رات کو بارہ بجے عدالتیں کھلیں ہمارے ہاتھ باندھ کر ہٹا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کرپٹ ترین مافیا کو ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا، شہبازشریف کے خلاف 40ارب کے کیسزہیں، باپ،بیٹا دونوں کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، نوازشریف، مریم نوازسزا یافتہ ہیں۔ 18 قتل کرنے والے کو وزیرداخلہ بنا دیا گیا، ملک یا فیکٹری کو تباہ کرنا ہو تو کرپٹ لوگوں کو اوپر بٹھا دیں، کرپٹ لوگوں کومسلط کرنا یہ ہمارے ملک کی بھی توہین ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سازش کر کے منتخب حکومت کو گرایا گیا، ہم نے اقتدارسنبھالا تو تاریخی خسارہ تھا، بیرونِ ملک جا کر مجھے ہاتھ پھیلانے پڑے، اقتدار کے دوسرے سال کورونا نے ہٹ کیا، یہ باتیں کرتے ہیں اہلیت کی، ہم نے کورونا کے دوران معیشت اورغریب لوگوں کو بچایا، بھارت میں 55 لاکھ سے زائد لوگ کورونا سے مرے، بھارت کی معاشی گروتھ کی بجائے مائنس میں چلی گئی، پاکستان کی اکانومی 5٫6 فیصد سے گروتھ کر رہی تھی، 31 ارب ڈالرکے ترسیلات زر پاکستان آئے، ہماری حکومت میں تاریخی ٹیکس ریونیواکٹھا ہوا، دیوالیہ ہونے والے ملک کی اکانومی کو ہم نے ٹھیک کیا۔

عمران خان نے کہا کہ کسانوں کو پہلی دفعہ ہماری حکومت میں فائدہ ہوا، ہماری حکومت تب گرائی جب ملک ترقی کر رہا تھا، یہ بھی سازش تھی، ہماری حکومت تمام مشکل وقت سے نکل چکی تھی، اپنے میڈیا سے پوچھتا ہوں اب مہنگائی کدھرگئی؟ ہماری حکومت سے زیادہ مہنگائی ہے، اب عوام سے مہنگائی بارے کیوں نہیں پوچھا جاتا؟ ہماری حکومت میں تھوڑی سے مہنگائی تو خبریں چلائی جاتی تھیں، سندھ ہاؤس میں نیلام گھرمیں پیسہ چلایا گیا، مولانا فضل الرحمان، بلاول کے لانگ مارچ ناکام ہو گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی طرف سے ملنے والی دھمکی کو ہمارے سفیرنے خود کنفرم کیا، اب تو سب کچھ کلیئر ہو گیا ہے، سارا کچھ تصدیق شدہ ہے، اوورسیزپاکستانی بیرون ممالک میں سازش کے بارے میں اپنی آواز بلند کریں، 20 مئی کے بعد اسلام آباد کی کال دوں گا، پاکستان کی عوام کو اتنا متحد پہلے نہیں دیکھا، ساری قوم ’غلامی امپورٹڈ حکومت نامنظور‘‘پرمتحد ہوچکی ہے، پاکستان میں شب دعا ہورہی تھی ہمیں نہیں پتا تھا مدینہ میں کیا ہورہا ہے، کریمنل نے شیخ رشید کے بھتیجے کے خلاف کیس بنایا، یہ جہاں بھی چلے جائیں، دونعرے ہرجگہ لگیں گے،غدار اور چورکے نعرے لگیں گے۔