fbpx

گورنر پنجاب کےآرڈیننس کوعدالت میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

لاہور: پنجاب میں جہاں انتظامی بحران ہے وہاں آئینی بحران بھی اپنے عروج پر ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ پنجاب پچھلے دوماہ سے چکی کے دوپاٹوں کے درمیان پس رہا ہے ، ادھرتازہ آئینی بحران میں گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان کی جانب سے جاری کیے گئے تین آرڈیننس کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ملک میں مسائل کا الیکشن کے علاوہ کوئی اور حل نہیں،شاہ محمود قریشی

بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے جاری کئے گئے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا ہے۔جس کے لیے ماہرین قانون کی ٹیمیں اس کیس کا جائزہ لے رہی ہیں

صوبہ پنجاب میں آئینی بحران شدت اختیار کر گیا، آئینی و قانونی ماہرین کا وزیراعلیٰ…

یہ آرڈیننس جوجاری کیا گیااس میں گورنر بلیغ الرحمان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس ختم کرنے کے لیے سیکرٹری قانون کولکھا۔ سیکریٹری قانون کو سیکرٹری اسمبلی کے اختیارات حاصل نہیں تھے۔اجلاس طلبی کے بعد سیکریٹری قانون کو اسمبلی سیکرٹری کے اختیارات دیے۔ گورنر کسی آرڈیننس کے ذریعے اسپیکر کے اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے اختیارات میں صرف اسمبلی ہی کمی بیشی کر سکتی ہے، اسمبلی اجلاس طلبی کے بعد آرڈیننس جاری کرنا غیر آئینی ہے۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ کیس بڑی اہمیت کا حامل ہے اوراگرسپریم کورٹ اس کیس کا فیصلہ کرتے ہوئے آرڈیننس کو غیرقانونی قراردیتی ہےتوپھرپنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کونقصان پہنچ سکتا ہے

پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش