حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں,طیب رضا
0
390
shariq

بچوں کے عالمی دن کے موقع پر کرومیٹک کے سی ای او شارق خان نے کہاہے کہ ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی اور ویپنگ کی لعنت میں ملوث ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

20 نومبر کو بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کے موقع پر تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی پاکستانی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی مضر صحت ہے، پاکستان میں بچوں میں تمباکو کا بڑھتا ہوا رجحان لمحہ فکریہ ہے، تمباکو نوشی سےنہ صرف اموات میں اضافہ بلکہ بیماریاں بھی پھیلتی ہیں،والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو سگریٹ نوشی سے دور رہنے کی تربیت کریں، تعلیمی اداروں میں اساتذہ اس حوالہ سے کردار ادا کریں، مساجد کے امام خطبات جمعہ میں سگریٹ نوشی سے دو ر رہنے کی تلقین کریں، معاشرے سے سگریٹ نوشی تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب سب ملکر کام کریں گے،حکومت بھی اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور خصوصا تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کے حکمنامے کو یقینی بنائے، سگریٹ پر ٹیکس بڑھایا جائے، اس سے سگریٹ نہ صرف بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا بلکہ پاکستانی معیشت بھی مستحکم ہو گی.

شارق خان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے علاوہ تمباکو کی نئی مصنوعات (ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز، ویپنگ اور چیونگم) بھی پاکستانی مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں جو نوجوانوں کے لیے تباہ کن ہیں۔تمباکو کی جدید پراڈکٹس میں نیکوٹین شامل ہوتی ہے جو کہ نشہ کی بہت سی دوسری اقسام میں سے ایک ہے۔نکوٹین نوجوان نسل میں جسمانی اور ذہنی صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تمباکو مصنوعات بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ تمباکو کی جدید مصنوعات کے ذریعے وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں لیکن درحقیقت یہ نشے کی ہی نت نئی اقسام بنارہے ہیں۔یورپ میں ہونے والی جدید تحقیق نے ان مصنوعات کے خطرات کے بارے میں تفصیلی انتباہ دیا ہے۔ تمباکو کی جدید مصنوعات چاہے کسی بھی شکل میں ہوں، یہ منہ کا کینسر، سانس کے مسائل اور پھیپھڑوں کی سوزش کا سبب بنتے ہیں۔

کرومیٹک کے رہنما، طیب رضا کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یومیہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کررہے ہیں،یہ اعدادو شمار لمحہ فکریہ ہیں، تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنے کے لئے قومی جذبے کی ضرورت ہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر طرف پیغام پہنچائیں کہ تمباکو نوشی سے دور رہیں اور صحتمند زندگی گزاریں،سگریٹ بچوں کی پہنچ سے دور کرنے کے لئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ان میں سے سب سے اہم تمباکو پر ٹیکس ہے، ٹیکس لگے گا تو سگریٹ مہنگا ہو گا اور بچوں کی پہنچ سے دور ہو گا.پاکستان دنیا کے ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے معاشی اور صحت کے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمباکو کے استعمال میں موجودہ ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے.

شفقت کی "شفقت” لڑکیوں کے لیے سگریٹ مہنگا۔۔۔۔ نوجوان کس حال میں؟

تمباکو پر ہیلتھ لیوی ٹیکس – ایک جائزہ ،تحریر: راجہ ارشد

ہیلتھ لیوی ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

ویسے تو ہیلتھ لیوی کی منظوری 2019جون میں ہوچکی ہے

تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

” ہیلتھ لیوی کے نفاذ میں تاخیر کیوں” تحریر: افشین

 اگر کھلے مقام پر کوئی سگریٹ پی رہا ہو تو اسکو "گھوریں”

تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

Leave a reply