*گریڈ 18 کے طاقتور افسران کی بدمعاشی شروع*

گریڈ 18 کے طاقتور افسر نے چیف سیکریٹری سندھ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔۔۔
چیف سیکریٹری سندھ نے عدالتی احکامات کیخلاف چیف آفیسر گریڈ19 کی پوسٹ پر گریڈ18 کے او پی ایس افسر کو تعینات کرکے سندھ کی بیوروکریسی میں ہلچل مچادی،ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں مبینہ سیاسی وابستگیوں پر گریڈ 18 کے افسر ایاز حمیداللہ بلوچ چیف آفیسر کے اہم عہدے پر تعینات،گریڈ19 کے سینئر افسر اشفاق ملاح کاتبادلہ کرکے او پی ایس افسر کو تعینات کیا گیا،محکمہ بلدیات سندھ کی سفارشات پر اشفاق ملاح کو ڈسٹرکٹ کونسل میں چیف آفیسر تعیناتی کا آرڈر چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے 19جنوری 2021ءکو کیا گیا تھا اور 12روز بعد ہی مذکورہ آرڈر حیران کن طور پر منسوخ کرکے گریڈ18کے او پی ایس افسر کو تعینات کرکے عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی ۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے عدالتی احکامات کو مذاق بناتے ہوئے کھلم کھلا خلاف ورزیوں کے ریکارڈ قائم کردیئے ہیں،چیف سیکریٹری سندھ سرکاری اداروں میں او پی ایس افسرام کی تعیناتی پر عائد پابندی کو ہوا میں اڑاتے ہوئے ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں چیف آفیسر جو کہ گریڈ19 کی پوسٹ ہے مذکورہ پوسٹ پر گریڈ18 کے افسر کی تعیناتی کرکے سندھ کی بیوروکریسی میں ہلچل مچادی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ بلدیات سندھ کی سفارشات پر اشفاق ملاح جو کہ ایس سی یو جی ایڈ من برانچ گریڈ19 کے افسر ہیں انہیں چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے چیف آفیسر ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں19جنوری2021ءکو ایک آرڈر کے تحت تعینات کیا گیا تھا جبکہ او پی ایس افسر ایاز حمیداللہ کا تبادلہ کردیا گیا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ طاقتور او پی ایس افسر ایاز حمیداللہ نے چیف سیکریٹری سندھ کے آرڈر کو نہ مانتے ہوئے عہدے کا چارج نہیں چھوڑا جس پر چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے کوئی کارروائی کے بجائے مذکورہ او پی ایس افسر کے سامنے چیف سیکریٹری سندھ نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے ہیں ،ذرائع کا کہنا ہے کہ19جنوری کو ہونے والے آرڈر کو یکم فروری کو چیف سیکریٹری سندھ کو منسوخ کرنا پڑا اور ایک مرتبہ پھر عدالتی احکامات کے خلاف او پی ایس افسر ایاز حمید اللہ کو چیف آفیسر کے اہم عہدے پر کام کرنے کی ہدایت کردی گئی،موجودہ صورتحال میں سندھ حکومت پر سندھ حکومت کی بیوروکریسی میں شدید ہلچل مچی ہوئی ہے،افسران کا کہنا ہے کہ گریڈ 18 کے ایک افسر نے نہ صرف چیف سیکریٹری سندھ کے احکامات کو چیلنج کرکے رکھ دیا بلکہ دوسری طرف چیف سیکریٹری سندھ کو گھٹنے ٹیکنے پر بھی مجبور کردیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے عدالتی احکامات کو مذاق بناتے ہوئے کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا ریکارڈ قائم کرلیا ہے، مبینہ سیاسی وابستگیوں پر اہم عہدوں پر عدالتی احکامات کیخلاف افسران کی تعیناتی اعلی حکام اور تحقیقاتی اداروں کیلئے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.