گریٹ گیم ۔ دنیا کس طرف جارہی ہے،عالمی طاقتیں کیاسوچ رہی ہیں،اصلی کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی :مبشرلقمان

لاہور: گریٹ گیم ۔ دنیا کس طرف جارہی ہے :اصلی کہانی تو مئی کے بعد شروع ہو گی ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی ،سنیئرتجزیہ نگارمبشرلمقان نے دنیا کی بدلتی ہوئی لمحہ بہ لمحہ تازہ صورت حال پرجس طرح نظررکھی ہوئی ہے یہ بھی مطالعہ کے شوقین افراد کا ایک نشہ ہے جب تک وہ حالات حاضرہ کے علوم کا کچھ نہ کچھ مطالعہ نہ کرلے اسے سکون نہیں ملتا ،وہ اکثروبیشترعالمی امورپراپنی رائے دیتے رہتے ہیں ،

 

 

 

باغی ٹی وی کےمطابق سنیرصحافی نے کرونا کی وجہ سے دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کے ایک پہلوپرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی وبا کی وجہ سے تیل کی کھپت کم ہو جانے اور پروڈکشن بڑھنے کی وجہ سے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گرچکی ہے ۔۔ یعنی تیل کی قدر ٹائلٹ پیپر سے بھی کم ہو گئی ۔

 

ان کا کہنا ہےکہ پچھلے مہینے سے جاری اس تاریخی کمی کے نتیجے میں آئل ریفائنری اور ریٹیل انڈسٹری میں عالمی سطح پر 50 ملین ملازمتیں ختم ہونے کا خطرہ بڑھ گیاہے ۔۔۔قیمت میں کمی کے اثرات تیل کی اور توانائی کےدیگر شعبوں کو بھی بری طرح متاثر کرے گی ۔

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا بھی جانتی ہے کہ تیل کی منڈی کریش کر گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں تیل ساز کمپنیوں کو کرائے پر ٹینکرز لے کر اضافی تیل کو ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہےامریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں‌کہ امریکی تیل ساز کمپنیوں کے معیار ڈبلیو ٹی آئی کے تحت رواں برس جون کے لیے خریدے جانے والے خام تیل کی قیمت بھی بہت کم ہے اور پیر کے روز عالمی منڈی میں اس کا کاروبار 20 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ جبکہ یورپ اور دیگر دنیا کے لیے تیل کی قیمت کا تعین کرنے والے خام تیل کی کمپنی برینٹ کروڈ کے تیل کی قیمت میں بھی 8.9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور اس کی عالمی منڈی میں خرید و فروخت 26 ڈالر فی بیرل سے کم رہی۔

 

 

 

سنیئر صحافی کہتے ہیں کہ اسی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کیونکہ تیل کی تجارت اس کی مستقبل کی قیمت سے حساب سے کی جاتی ہے اور مئی تک کے کیے گئے معاہدہ منگل کو ختم ہو رہے ہیں۔ اب ہو یہ رہا ہے کہ تیل کی کمپنیاں ان معاہدوں کے تحت خریدے گئے تیل کو متعلقہ ممالک کے حوالے کرنا چاہتی ہیں تاکہ انھیں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت نہ کرنا پڑیں۔ لیکن صورتحال بگڑ رہی ۔۔کیونکہ کسی بھی ملک کے پاس تیل کو ضروت سے زیادہ زخیرہ کرنے کے انتظامات نہیں ۔۔۔ ۔۔تیل تو دھڑا دھڑ آرہاہے ۔۔۔لیکن ملکوں میں لاک ڈائون کی وجہ سے استعمال نہیں ہو رہا۔۔ ۔ امریکہ اور کینیڈا میں تیل نکالنے والی کمپنیاں اپنا کام بند کررہی ہیں ۔

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر تیل کی صنعت کواس وقت تیل کی گرتی ہوئی مانگ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان اس کی پیداوار کو کم کرنے پر شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں ،ان کا کہنا تھا کہ آپ کو یادہ ہوگا کہ اپریل کے شروع میں میں اوپیک ممبران ممالک جن میں سعودی عرب سر فہرست ہیں اور اس کے اتحادیوں نے عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کرنے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔یہ معاہدہ تیل کی پیداوار میں اب تک کی سب سے بڑی کٹوتی تھی جس پر اتفاق کیا گیا تھا۔

 

 

 

سنیئرصحافی کہتے ہیں کہ تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کٹوتی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اس سے صنعت پر کچھ فرق پڑتا۔اور عالمی منڈی کو یہ احساس ہور ہاہے کہ موجودہ شرائط کے ساتھ اوپیک ممالک کا معاہدہ تیل کی منڈیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک اور اس کے اتحادیوں جیسا کہ روس پہلے ہی تیل کی پیداوار کو ریکارڈ حد تک کم کرنے پر اتفاق کر چکے ہیں۔امریکہ سمیت دیگر ممالک نے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے فیصلے کاروباری بنیادوں پر کیے ہیں۔ مگر عالمی سطح پر اب بھی خام تیل کی سپلائی دنیا کی ضرورت سے زیادہ ہے۔ اور مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اس تیل کو استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ ایک بڑا مسئلہ اس کے ذخیرہ کرنے کابنتا جارہاہے

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اصل میں اضافی تیل کو اس وقت تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جب تک دنیا سے وبا کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ ہو جائے اور تیل کی مصنوعات کی اضافی ڈیمانڈ نہ پیدا ہو جائے۔دنیا میں زمین اور سمندر میں تیل کے ذخائر تیزی سے بھر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تیل کی قیمت اس سے بھی زیادہ نیچے آنے کا امکان ہے۔

 

 

مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تبدیلی کا دارمدار تیل کی مانگ پر منحصر ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صحت کا بحران کے بعد کیا حالات سامنے آتے ہیں۔اس تشویش میں بدستور اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ امریکہ میں مارچ سے آغاز سے تیل کے ذخائر میں پہلے ہی 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان ممالک میں انگولا ۔۔ نائجیریا اور عراق شامل ہیں ۔ جبکہ سعودی عرب محفوظ دکھائی دیتاہے کیونکہ اس نے دنیا کے بڑے تیل کے امپورٹر ملک چین کے ساتھ بڑی ڈیل کی ہیں ۔۔امریکی شیل انڈسٹری ، نارتھ سی آف شور سیکٹر اور کینیڈا کے تیل و گیس کے شعبوں کا دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے ۔۔ یہاں اصل کہانی یہ ہے کہ ایک غیر مستحکم مارکیٹ میں بچے گا کون ۔وہی جو اس صورتحال میں انوسٹ کرنے کی طاقت یا صلاحیت رکھتا ہوگا۔۔۔ اور جو تیل کی مارکیٹ میں منفی ماحول میں بھی پیسا خرچے گا وہی فاتح قرار دیا جائے گا۔۔۔ توانائی کی صنعت میں اگلے چھ ماہ میں جو کچھ ہوگا اس سے دنیا بہت بدل جائے گی ۔۔۔ ایک بہت بڑی تبدیلی آنے والی ہے

 

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان کا مطالعے میں یہ چیز آئی ہے کہ تیل کی منڈی میں گریٹ گیم شروع ہوچکی ہے۔۔۔۔اور کہا جارہاہے ۔۔ اس صورتحال میں سعودی عرب ، روس اور چین بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہییں ۔جبکہ دوسری طرف تیل کی کم قیمتوں اور زیادہ پروڈکشن سے وہی ملک یا پھر کمپنیا ں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں جن کے پاس تیل کو زیادہ سے زیادہ زخیرہ کرنے کی گنجائش یا پھر صلاحیت موجودہے ۔ یعنی موجودہ مارکیٹ کی صورتحال میں سب سے زیادہ جیتنے والے اسٹوریج گنجائش کے مالک ہیں۔ ساحل اور سمندر کے کنارے۔ پچھلے مہینے توانائی کی منڈی میں ذخیرہ کرنے کی سب سے زیادہ کوشش کی گئی ہے۔

 

 

 

سنیئرصحافی کا کہنا ہےکہ سمندر کے کنارے ، تاجر فلوٹنگ اسٹوریج کو بک کتے نظر آتے ہیں ۔ کے لئے گھوم رہے ہیں ، اور سپرٹینکروں کے لئے چارٹر کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ ذخیرہ کرنے کے اخراجات بہت بڑھ رہے ۔ اس حوالے سے چین سبقت لے جا سکتاہے ۔۔۔ کیونکہ چین میں نہ صرف آئل ریفائنری موجود ہیں ۔۔۔۔ بلکہ چین میں یہ صلاحیت بھی موجودہے کہ وہ دنوں میں تیل زخیرہ کرنے کے یونٹ بنا سکے ۔۔ وہ ملک جو دو دن میں ہسپتال بنا سکتاہے

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان حالات میں چھوٹی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں ۔۔۔ ۔اور اصل لڑائی بڑے کھلاڑیوں کے درمیان ہے ۔ امریکہ جیسے ممالک کی کوشش ہوگی کہ مارکیٹ میں حصص سعودی عرب ، چین یا پھر روس جیسے ممالک کے پاس نہ جائیں ۔۔۔ اور ممکن ہے کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو ریاستیں خرید نا شروع کرسکیں ۔۔۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتاہے ۔۔

 

 

 

ایک طرف تمام ممالک وبا سے اپنے اپنے ممالک میں جنگ لڑنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف ۔۔۔اب تیل کی جنگ بھی چھڑ چکی ہے ۔۔۔ لیکن یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے ۔۔۔۔۔ دیکھتے ہیں ۔۔ کون جیتتا ہے اور کون ہارتاہے ۔۔۔اور کون بھوکلاہٹ میں غلط فیصلے کرتاہے ۔۔ اصل کہانی تو مئی کے مہینے کے بعد شروع ہوگی ۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.