fbpx

گوانتاناموبےکو قائم ہوئے 20 برس مکمل،امریکا کا جیل کو مکمل بند کرنے کا ارادہ

واشنگٹن: کیوبا کے مشرقی ساحل پر واقع گوانتاناموبے جیل کو قائم ہوئے 20 برس مکمل ہوگئے-

باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکا جیل کو مکمل بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے امریکی وزات دفاع نے گوانتانامو بےجیل کے انتظامات پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پینٹا گون امریکی انتظامیہ گوانتا ناموبے جیل کو مکمل بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

ترجمان کے مطابق بائیڈن انتظامیہ نے گزشتہ برس گوانتاناموبے جیل کی صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا تھا، گوانتاناموبے جیل میں اب صرف 39قیدی موجود ہیں، پہلے یہ تعداد 800تھی جیل میں 14 قیدیوں کا جائزہ چل رہا ہے، 2قیدیوں کو سزا ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بعد ریپبلکن پارٹی کے رہنما اور سابق امریکی صدر جارج بش نے کیوبا کے جزیرے گوانتانامو بے میں یہ جیل بنوائی تھی۔

"حزب اللہ” اور "ایران” کے حوالے سے شام میں اسرائیل کیا کرنے…

ان قیدیوں کو انتہائی خطرناک قرار دے کر کسی بھی قسم کی قانونی مدد کے بغیر گوانتاناموبے میں ہمیشہ کے لیے قید کیا گیا تھا اور یہاں ان کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز رویہ اختیار کیا گیا۔

ترکمانستان میں”جہنم کے دروازے”نامی گڑھے کو بند کرنے کا فیصلہ

2008 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے براک اوباما امریکا کے صدر بنے تو انہوں نے یہ عقوبت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا، اوباما کا کہنا تھا کہ گوانتانامو بے پر سالانہ 15 کروڑ امریکی ڈالر خرچ ہو رہے ہیں لہذا اس کو بند کرکے اس رقم کی بچت کی جا سکتی ہے۔

قازقستان :خفیہ ادارے کے سابق سربراہ گرفتار

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی طرف سے مسلسل تنقید ہوتی رہی لیکن صدر بش کی حکومت کی ’دہشت گردی کے خلاف‘ جنگ میں گوانتانامو بے کو ناگزیر قرار دیا جاتا رہا۔

بعد میں صدر براک اوباما نے یہ جیل خانہ بند کر کے قیدیوں کو امریکی جیلوں میں منتقل کر کے ان پر وہاں مقدمات چلانے کا اعلان کیا لیکن کانگریس کی طرف سے سخت مخالفت کے باعث وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے بعد جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو انھوں نے ایک بار پھر گوانتانامو بے کو غیرمعینہ مدت تک قائم رکھنے کا اعلان کیا۔

پلواما کا حملہ اقتدارکے بھوکے نریندرمودی نے کروایا،کانگریس رہنما

11ستمبر کے حملوں کے بعد اس جیل میں کُل 780 افراد قید کیے گئے، جنھیں کئی کئی سال قید رکھنے کے بعد رفتہ رفتہ واپس ان کے ملکوں کی تحویل میں دے دیا گیا لیکن 20 سال بعد آج بھی وہاں کوئی 39 ملزمان قید ہیں اور موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے ان کی خواہش ہے کہ ان کے دور حکومت کے اختتام سے پہلے امریکہ کا یہ بدنام زمانہ حراستی مرکز ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔

عالمی برادری کسی سیاسی تعصب کے بغیر افغان عوام کی مدد کرے،ملا عبدالغنی برادر