گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کی دھمکی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دبئی میں گلف نیوز کے ایڈیٹر کو بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے آئی ٹی سیل اور ٹویٹر کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس سے دھمکیاں مل رہی ہیں

گلف نیوز ، دبئی کے فیچر ایڈیٹر مظہر فاروقی جس پر متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں بھارتی شہریوں کی اسلامو فوبیا کے حوالہ سے سوشل میڈیا پوسٹوں پر رپورٹنگ کرنے کا الزام ہے ، کو بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں.

دبئی میں گلف نیوز کے ساتھ کام کرنے والے ایک بھارتی صحافی کو دھمکی دی گئی ہے کہ اس کا پاسپورٹ ضبط کردیا جائے گا اور جب وہ بھارت واپس آئے گا تو اسے بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔

بھارتی صحافی نے دبئی اور خلیجی ممالک میں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ مظالم اور اسلامو فوبیا کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر آنے والی پوسٹوں پر رپورٹنگ کی تھی،جس کے بعد کچھ بھارتی شہریوں کو ان ممالک سے نکال دیا گیا

گلف نیوز کے فیچر ایڈیٹر مظہر فاروقی نے کہا ہے کہ انکے ای میل ، واٹس ایپ ، فیس بک میسنجر اور ٹویٹر پر نہ صرف گالیاں دی گئی‌ ہیں بلکہ دھمکی آمیز پیغام بھی بھجوائے گئے ہیں، جن اکاؤنٹس سے دھمکیاں ملیں ان میں سے کچھ اکاؤنٹس غیر فعال ہو گئے اور کچھ نے بعد میں ٹویٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں، ٹویٹر کے تصدیقی اکاؤنٹس سے بھی انہیں دھمکیاں دی گئیں، دھمکیوں میں انہیں کہا گیا کہ ہم آپ کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اگر بھارت واپس آئے تو سیدھے جیل جاؤ گے

دھمکیوں میں یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی فیملی کہاں رہتی ہے ہم جانتے ہیں اس کو اٹھا لیں ، میری بیٹی بارے بھی ایسا ہی کہا گیا اور یہ بھی دھمکی دی گئی کہ پاسپورٹ منسوخ کر دیا جائے گا

دبئی کے اعلیٰ حکام اور پولیس کو بھی صحافی کے بارے میں ایسی دھمکیاں ملی تھیں اور کہا گیا تھا کہ مظہر فاروقی کا بائیو ڈیٹا چیک کریں وہ لکھنو سے ہیں اور فقہ جعفریہ سے تعلق ہے اور وہ ایران کے لئے خفیہ طور پر کام کر رہے ہیں.

مظہر فاروقی کا کہنا تھا کہ مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے 5 ہزار سے زائد دھمکی آمیز پیغامات مل چکے ہیں، بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے میرے خلاف مہم چلائی اور بہت لوگوں نے مجھے گالیاں‌دی.

مظہرفاروقی دبئی میں گلف نیوز سے قبل لکھنؤ میں ہندوستان ٹائمز کے لئے کام کرچکے ہیں۔ اپنی تحقیقاتی رپورٹس کی وجہ متعدد ایوارڈز بھی وصول کر چکے ہیں. ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.