fbpx

نوپورشرما اور نوین کمار جندل پردہلی میں بھی مقدمہ درج،گرفتاری کا مطالبہ

توہین آمیز بیان پرسابق ترجمان بی جے پی نوپورشرما اور نوین کمار جندل پرمقدمہ درج کر لیا گیا

اشتعال انگیز پوسٹ اور غلط معلومات دینے پر 8 دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی کی گئی دہلی پولیس اسپیشل سیل نے ذمہ داروں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ،دہلی پولیس پوچھ گچھ کے لیے تمام ملزمان کو نوٹس بھیجے گی، نئی دہلی میں ملزمان کے خلاف نفرت پھیلانے اور لوگوں کواکسانے پر مقدمہ درج کیا گیا ،اس سے قبل ممبئی اور مہاراشٹر پولیس نے نوپور شرما کے خلاف مقدمات درج کیے تھے،

دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی جانب سے درج مقدمے میں بی جے پی کے سابق ترجمان نوین جندل، صحافی صبا نقوی کے نام بھی شامل کیے گئے ہیںیف آئی آر میں پیس پارٹی کے چیف ترجمان شاداب چوہان، مولانا مفتی ندیم، عبدالرحمن، گلزار انصاری، انیل کمار مینا اور ہندو مہاسبھا کی عہدیدار پوجا شکون پانڈے کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔

دہلی پولیس نے دشمنی پھیلانے،انتشار پیدا کرنے، تشدد بھڑکانے میں ملوث ہونے پر یہ مقدمہ درج کیا ہے، صحافی صبا نقوی پر الزام ہے کہ انہوں نے اس وقت مبینہ طور پر شیولنگ کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹویٹ کیا تھا جب ہندو گروپ دعویٰ کر رہے تھے کہ انہیں وارانسی میں گیان واپی مسجد کے احاطے سے ایک شیولنگ ملا ہے

قبل ازیں علی گڑھ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما کو پھانسی یا عمر قید کی سزا کا مطالبہ کرتے ہوئے اے ایم یو میں زبردست مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے گستاخوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا،مہاراشٹر میں مقدمہ درج ہونے کے بعد شہریوں نے مطالبہ کیا کہ گستاخ رسول کو گرفتار کیا جائے ، اس ضمن میں شہریوں نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور مطالبہ سامنے رکھا، پولیس افسران کو دیئے گئے خط میں کہا گیا ہ کسی بھی مذہب کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال عام ہو گیا ہے اس سے ملک میں امن و امان بگڑے گا، نوپور شرما کے بیان پر بھارت میں مسلمان سخت غم و غصہ میں ہیں، بھارت کے کئی شہروں میں مقدمے درج کئے گئے ہیں، اسے گرفتار کیوں نہیں کیا جاتا، جلد از جلد اسے گرفتار کیا جائے

دوسری جانب بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے اپنے رہنماؤں کے بیانات کے حوالہ سے پالیسی جاری کی ہے اور کہا ہے کہ متنازعہ بیان نہ دیئے جائیں، آئی ٹی ماہرین کی مدد سے گزشتہ آٹھ برسون ستمبر 2014 سے مئی 2023 تک بی جے پی کے رہنماؤں کے بیانات کی تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کے تقریبا 5200 بیانات غیر ضروری ہیں، ان میں سے 2700 بیانات میں حساس الفاظ استعمال ہوئے جو نہیں ہونے چاہئے تھے، بی جے پی کے 38 رہنماؤن نے مذہبی عقائد کو آٹھ برسون میں ٹھیس پہنچائی، اسکے بعد بی جے پی نے رہنماؤں کو نفرت انگیز بیان دینے سے روک دیا، نفرت انگیز اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے والے بی جے پی رہنماوں میں اننت کمار ہیگڑے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سینی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں

دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

بی جے پی رہنما گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

بھارتی حکام کی جانب سے توہین آمیز بیانات انتہائی تکلیف دہ ہیں، ترجمان پاک فوج