گزشتہ ہفتے ٹرمپ کس اسلامی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے؟ تہلکہ مچ گیا

گزشتہ ہفتے ٹرمپ کس اسلامی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے؟ تہلکہ مچ گیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ ہفتے ایران پر حملے کا ارادہ رکھتے تھے۔ آئی اے ای اے کی رپورٹ کے بعد ٹرمپ ایران پر حملے کے آپشنز پر غور کرتے رہے۔

معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق مشیروں نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہ راست تصادم نہ کرنے کا مشورہ دیا۔اخبارکے مطابق امریکی صدر کو مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنا امریکہ کو ایران کے ساتھ براہ راست سرحدی جنگ میں الجھا سکتا ہے۔

امریکی صدر نے گزشتہ جمعرات کو اعلیٰ حکام کی میٹنگ طلب کی تھی جس میں نائب صدر مائیک پنس ،وزیر خارجہ مائیک پومپیو، قائم مقام سیکریٹری دفاع کرسٹوفر سی ملر اور جنرل مارک اے ملی نے شرکت کی تھی۔

ٹرمپ نے ان سے پوچھا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ پر کیا رد عمل دینا چاہیے اور ان کے پاس کیا آپشن ہیں۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور جنرل مارک اے ملی نے صدر کو بتایا کہ کسی بھی قسم کا عسکری یا سائبر حملہ خطے میں ایک نئے تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میٹنگ کے بعد شرکا کو یقین تھا کہ صدر میزائل حملہ تو نہیں کریں گے البتہ ایران اور اس کے اتحادیوں کیخلاف مزید سخت اقدامات کر سکتے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق مشیروں کے مشورے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر حملے کا ارادہ ترک کر دیا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق وائیٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے

ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

ٹرمپ اپنی صدارت کے چار سال میں ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی رکھے ہوئے ہیں ، نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کے ترجمان ، علییزا میراوسیفی نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد اور شہری استعمال کے لئے ہے اور ٹرمپ کی پالیسیوں میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تاہم ایران کسی بھی جارحیت پسندی کو روکنے یا اس کا جواب دینے کے لئے اپنی جائز فوجی طاقت کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوری میں ، ٹرمپ نے امریکی ڈرون حملے کا حکم دیا تھا جس میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی مارے گئے تھے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.