fbpx

حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟ تحریر: احسن ننکانوی

حادثے کا اصل ذمہ دار کون ؟؟-

سندھ میں پیر کے روز ایک ٹرین حادثہ ہوا ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ٹرین کی 3 بوگیاں ٹرین سے الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئیں۔ جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا اب میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی ایسے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں جب ٹرین سے اس کی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کیا ڈرائیور کو معلوم نہیں ہوا ڈرائیور یا کوئی دوسرا فرد کال کرکے نہیں بتا سکتا تھا کہ ٹرین کی بوگیاں الگ ہو کر دوسرے ٹریک پر گر گئی ہیں اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کیا جا سکتا پھر کیوں ایسا ہوا حالانکہ جب اتنی بوگیاں الگ ہو کر گریں تو کوئی جھٹکا سا لگا ہوگا یا کوئی اور چیز تو محسوس ہوئی ہو گی اور دوسری طرف سے آنے والی ٹرین کو مطلع کر دیا جاتا تو شاید اتنے بڑے سانحے سے بچا جاتا موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو وہ پچھلی حکومت کو اکثر کہا کرتی تھی کہ جب کوئی ٹرین حادثہ ہو تو وزیر کو استعفی دینا چاہیے یا کوئی اور حادثہ ہو جائے تو ان کا بس یہی مقصد ہوتا تھا کہ ان کو استعفی دینا چاہیے اب جب یہ خود اقتدار میں آگئے ہیں تو ان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کیا ہماری عوام کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں ایک صاحب فرما رہے تھے کہ اس حادثے کا ذمہ دار پچھلی حکومت ہے مجھے اس کی یہ بات بڑی مضحکہ خیز لگی کے حکومت کو تین سال ہو گئے ہیں لیکن اب بھی وہ ہر کام پچھلی حکومت پر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو چاہئے کہ اگر ان کی حکومت میں کوئی کمی ہے تو اس کو دیکھیں اور درست کریں کب تک وہ پچھلی حکومتوں پر الزام لگاتے رہیں گے۔ اور محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ فرما رہی تھی کہ اللہ کے فضل سے یہ سال میں پہلا واقعہ ہے۔ ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ ٹھہرا رہے ہیں چیف انجینئر کا 4 جون کو جو انہوں نے ڈپٹی سپریڈنٹ کو خط لکھا وہ بھی سامنے آ گیا جس میں انھوں نے لکھا کہ آپ کو بجٹ سے زیادہ تمام وسائل اور مشینری فراہم کر دی گئی ہے اس کا کام جلد از جلد شروع کرے کیونکہ یہ بہت ہی بری حالت میں ہے اگر کام جلد از جلد نہ شروع کیا گیا تو کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے تو جی بڑا حادثہ ہو گیا کام بھی شروع ہو جائے گا لیکن جو لوگ مر گئے ہیں ان کا ذمہ دار کون جو بچے یتیم ہو گئے ہیں ان کا کیا ریلوے حکام ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں حکومت پچھلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے میرے خیال سے ان کو مل کر انگریز جس نے یہ منصوبہ بنایا جس نے یہ پروجیکٹ شروع کیا اس کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کیونکہ وہ ایک اچھا کام کر گیا

ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺍﻟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ
ﮨﺮ ﺷﺎﺥ ﭘﮧ ﺍُﻟﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡِ ﮔﻠﺴﺘﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ
ﺷﻮﻕ ﺑﮩﺮﺍﺋﭽﯽ

تحریر: احسن ننکانوی
Ahsannankanvi@gmail.com