fbpx

حافظ نعیم الرحمن کی پریس کانفرنس

انجنیئر حافظ نعیم الرحمان کی الیکشن کمیشن سماعت میں پیش کردہ مطالبات اور قانون سازی کی ضرورت پر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کی جس میں مندرجہ ذیل نکات پیش کئے۔

* وزیر اعلیٰ کو بلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق تجاویز ارسال کردی۔
* کراچی شہر کو میگا سٹی گورئمنٹ، میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخابات براہ راست کروایا جائے،کراچی کے تمام ادارے کو میئر کے ماتحت کیے جائیں۔
* میگا سٹی گورنمنٹ میں ٹاؤن کو نسل کو 10سے 15 ہزار کی آباد ی کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے،
* جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سماعت اور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں اہل کراچی کا مقدمہ پیش کیا ہے اور فوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے وزیر اعلیٰ سندھ کوبلدیاتی نظام میں اصلاحات سے متعلق اپنی تجاویز ارسال کردی ہیں، جس میں کہا ہے کہ
1. بلدیاتی ایکٹ میں کراچی کو میٹر و پولیٹن کارپوریشن کے بجائے میگا سٹی گورنمنٹ کا درجہ دیا جائے،
2. میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب با
لغ رائے دہی کی بنیادپر براہ راست کروایا جائے،
3. کے ڈی اے، کے ڈبلیو ایس بی، ایم ڈی اے، کے ڈی اے سمیت دیگر ادارے میگا سٹی گورنمنٹ کے حوالے کیے جا ئیں،
4. موٹر وہیکل ٹیکس، جائیداد منتقلی ٹیکس، غیر منقولہ جائیداد ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز جمع کرنے کا اختیار بھی میگا سٹی گورنمنٹ کو دیا جائے۔
5. سٹی پولیس اور ٹریفک پولیس کو بھی میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت کیا جائے۔
6. صوبے میں تمام شہر وں کو بھی با اختیار بنایا جائے۔
7. ہر ضلع کیلئے ڈسٹرکٹ میونسپل کمیٹی کا نظام ختم کیا جائے۔
8. کراچی 32، سب ڈویژنز پر مشتمل ہے، یہاں ٹاؤن کا نظام ہو نا چاہیے۔
9. میگا سٹی گورنمنٹ میں ٹاؤن کو نسل کو 10سے 15 ہزار کی آباد ی کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے، تاکہ تمام مسائل نچلی سطح پر بہترین طریقے سے حل ہوں۔

پیپلزپارٹی یونیفائیڈ بنیاد پر 60سے 65 ہزار پر مشتمل افرادپر یونین کمیٹی رکھنا چاہتی ہے۔

جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن میں کراچی کے 3، کروڑ سے زائد عوام کا مقدمہ لڑا ہے اور فی الفور بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

،پیپلز پارٹی سندھ پر جاگیردارنہ نظام قائم کر نا چاہتی ہے، کراچی کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں مسلسل ٹال مٹول کرنے، الیکشن کمیشن کی سماعت میں شرکت کرنے اور وزیر اعلیٰ کو ارسال کی گئی تجاویز کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پرنائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، سکریٹری کراچی منعم ظفر، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ کراچی اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی راہ میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی روکاوٹ ہے،ہم نے الیکشن کمیشن پاکستان کی سماعت میں شرکت کی اور چیف کمشنر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے تفصیلی ملاقات بھی ہوئی ہے۔جماعت اسلامی نے کراچی میں بااختیار بلدیاتی نظام اورفوری بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات حوصلہ افزا رہی،الیکشن کمیشن پاکستان بھی کراچی اور سندھ میں فوری بلدیاتی انتخابات چاہتاہے لیکن اس کی واضح ہدایات کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے جارہے۔

پیپلز پارٹی کراچی پر جاگیردارانہ نظام مسلط کر نا چاہتی ہے، جماعت اسلامی ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گی۔ ہم الیکشن کمیشن،اسمبلیوں اورسڑکوں پر احتجاج سمیت ہر جمہوری راستہ اختیار کرنے کیلئے تیار ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ بلدیاتی ایکٹ کی حدود میں شامل محکمے سٹی گورنمنٹ کے اختیار میں ہونے چاہئیں۔سول ڈیفنس،ماہی گیری،سماجی بہود،انفارمیشن ٹیکنالوجی،فنی تعلیم،ہاسپٹل،چھوٹے،بڑے کالج،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،ضلعی سڑکوں وعمارتوں،ماس ٹرانزٹ سسٹم،انڈسٹریل اسٹیٹ،آئی ٹی پارکس سمیت دیگر محکمے 2021میں بلدیات کے ماتحت تھے،اب انہیں میگا سٹی گورنمنٹ کے ماتحت ہونا چاہیے۔

میگا سٹی گورنمنٹ کومختلف اداروں میں 17گریڈ سے اوپر سمیت تمام ملازمین کی تقرر ی تبادلوں کا اختیار بھی ہونا چاہیے،

طے شدہ فارمولہ 2002 کے مطابق،کراچی کے لیے ضلع آکٹرائے ٹیکس میں اصل حصہ بحال کیا جائے،مختلف کونسلوں سے صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) کے اراکین، حکومت کی طرف سے نامزد نہیں بلکہ متعلقہ کونسلوں سے منتخب ہونے چاہئیں،

شہری کونسل کے منتخب اراکین کو صوبائی مالیاتی کمیشن کی طرح صوبائی لوکل گورنمنٹ کمیشن میں بھی نمائندگی دی جانی چاہیے،سندھ کچی آبادی بورڈ میں کونسلز کے منتخب اراکین کی نمائندگی ان علاقوں کی آبادی کے تناسب سے رکھی جائے،

سٹی پولیس کے انچارج سمیت کراچی میگا گورنمنٹ کے محکموں کے سربراہوں کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں میگا سٹی گورنمنٹ کے میئر کے دفتر کے زیر اہتمام تیار ہوں، کراچی شہر کی زمینوں سے تمام محصولات، ٹیکس، جرمانے وغیرہ کی وصولی میگا سٹی گورنمنٹ کو واپس کی جائے،

مذکورہ بالا مجوزہ اصلاحات کی روشنی میں یہ ایکٹ تبدیل کیا جانا چائیے۔ اس مقصد کے لئے جماعت اسلامی اپنی تمام تر سیاسی ،قانونی اور تکنیکی سپورٹ کے ساتھ سندھ حکومت اور سندھ اسمبلی کی مدد کے لئے تیارہے۔