حافظ محمد سعید کی گرفتاری کیوں ہوئی؟ ترجمان جماعةالدعوة نے پول کھول دیا

جماعةالدعوة پاکستان کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے سی ٹی ڈی کی طرف سے پروفیسر حافظ محمد سعید کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے بھارت و امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ واضح طور پر اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہیں کہ جماعةالدعوة کے سربراہ حافظ محمد سعید یا تنظیم کے کوئی اور رہنما کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں، اس لئے انہیں ملک میں دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی مکمل آزدی حاصل ہے۔ ابھی حال ہی میں سی ٹی ڈی کی طرف سے دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جانے پر بھی حافظ محمد سعید نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے جبکہ اینٹی ٹیررسٹ کورٹ لاہور کی طرف سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی منظور ہو گئی تھی تاہم اس کے باوجود انہیں گرفتار کرنا اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی توہین ہے۔

یحییٰ مجاہدنے کہاکہ گرفتاریوں و نظربندیوں پر ہم نے پہلے بھی عدالتوں سے رجوع کیا اور ہمیشہ قانون کی جنگ لڑی ہے، اب بھی ہم اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے اور قانون سے اپنا حق لیں گے۔ ترجمان نے کہاکہ بیرونی دباﺅ پر حافظ محمد سعید کی گرفتاری کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ بھارتی دباﺅ پر ماضی میں بھی بار بار گرفتاریاں کی جاتی رہی ہیں تاہم آج تک جماعةالدعوة کے رہنماﺅں کے خلاف کوئی ایک الزام ثابت نہیں کیا جاسکا۔حکومت کو چاہیے کہ وہ دشمن قوتوں کے دباﺅ کا شکار ہونے کی بجائے ملکی سلامتی اور وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دے۔ ترجمان جماعةالدعوة نے حافظ محمد سعید کی فی الفوررہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ آج حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے سی ٹی ڈی کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.