حافظ محمد سعید کو دو مزید مقدمات میں سزا سنا دی گئی

0
52
بیرسٹر فہد ملک قتل کیس میں مدعی مقدمہ کے وکیل کے دلائل مکمل

انسداد دہشت گردی عدالت نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید کو دو مزید مقدمات میں مجموعی طور پر 31سال قید اور تین لاکھ چالیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنادی جب کہ ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

سی ٹی ڈی کی طرف سے حافظ محمد سعید پر فنڈز اکٹھے کر کے جس مسجد و مدرسہ کی تعمیر کا الزام عائد کیا گیاتھا ،عدالت نے اسے بھی سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا ہے۔ جمعہ کے دن اے ٹی سی کورٹ نمبر 3کے جج اعجاز احمد بٹر کی عدالت میں سی ٹی ڈی لاہور اور ساہیوال کی طرف سے درج مقدمہ نمبر 90/19 اور 21/19کی سماعت ہوئی جس میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ اور جرح کا عمل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا گیا ہے۔

مقدمہ نمبر 90/19میں ساڑھے سولہ اور مقدمہ نمبر 21/19میں ساڑھے پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ گواہوں کے بیانات پر حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کے وکیل نصیرالدین نیئر اور محمد عمران فضل گل ایڈووکیٹ کی طرف سے جرح کی گئی۔واضح رہے کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید جولائی 2019ء سے گرفتار ہیں اور ان کے خلاف اب تک سات مقدمات کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل دو مقدمات میں انہیں گیارہ ، گیارہ سال قید کی سزابھی سنائی گئی تھی۔واضح رہے کہ جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف سی ٹی ڈی کی طرف سے لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان اور دیگر شہروں میں کل اکتالیس مقدمات درج کیے گئے جن میں سے زیادہ تر کے فیصلے ہو چکے ہیں ۔حافظ محمد سعید و دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات میں فنڈز اکٹھے کر کے مساجدو مدارس تعمیر کرنے جیسے الزامات ہیں۔

Leave a reply