ہے حق ہمارا آزادی ہم لے کے رہیں گےآزادی ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

ا ز قلم: عظمی ناصر ہاشمی

ہے حق ہمارا۔۔۔۔۔آزادی۔۔۔۔۔ہم لے کے رہیں گے۔۔۔۔آزادی
جلوس آگے آگے بڑھتا جارہا تھا اور اس کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جارہا تھا۔یہ نعرہ ہندوستان کے کونے کونے میں پھیل چکا تھا۔اس مطالبے سے ہندو مسلم فسادات کی آگ بھڑک اٹھی اور آزادی مانگنے والوں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جو 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر توڑے بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ۔اس میں انگریز کا ہاتھ تو تھا ہی اور ساتھ ساتھ ہندو اور سکھ بھی اس گھناؤنے جرم میں شامل تھے۔قیام پاکستان کا اعلان ہوا اور انہیں اپنا سارا اسلحہ ہندو حکومت کے سپرد کرنے کا حکم دیا گیا۔ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مسلمانوں کو نہتے کر کے ہندوؤں اور سکھوں کے ہاتھ میں برچھیاں،بھالے،نیزے،تلواریں،
بارود کے گولے پکڑا دئیے گئے۔معصوم بچوں، بوڑھوں، جوانوں کا اتنے بڑے پیمانے پر قتل کہ الامان الحفیظ اپنے اوپر کٹی پھٹی،جلی اور مسلہ کی ہوئی لاشیں دیکھ کر زمین کی روح بھی کانپ اٹھی ہوگی۔
ایسی ہی ایک کہانی سلیم نامی نوجوان کی ہے جو انڈیا کے علاقے میں بہت خوش وخرم رہ رہا تھا۔اس کی بہت بڑی حویلی تھی۔ایک حویلی میں بہت سے خاندان آباد تھے۔نانی،دادی،چچا،تایا،پھپھو وغیرہ۔ان کے پڑوس میں کئی ہندو گھرانے آباد تھے۔جن کے ساتھ ان کے بہت پرانے مراسم تھے۔اس محلے میں ہندو مسلمان آپس میں دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔نجانے مسلمان ان پر اندھا اعتماد کیوں کرتے تھے۔حالانکہ جو اسلام سے نفرت کر سکتے ہیں وہ مسلمانوں سے محبت کیسے کریں گے۔اس بات کا احساس قیام پاکستان کے وقت ہوا جب اچھے بھلے تعلقات رکھنے والے، اپنے آپ کو جگری یار کہنے والے ہندوؤں نے مسلمانوں سے ایسے آنکھیں پھیریں گویا کہ وہ ایک دوسرے کے ازلی دشمن ہوں۔
جیسے ہی "قیام پاکستان” کا اعلان ہوا اور مسلمانوں کو انڈیا سے پاکستان ہجرت کی اجازت ملی۔ہندوؤں اور سکھوں کو کھلی اجازت مل گئی۔انہوں نے گاوں کے گاوں جلانا شروع کر دیے۔سلیم اور اس کی حویلی کے مکین بھی ہجرت کے لئے تیاری کرنے لگے۔ان کا خیال تھا کہ اس محلے کے ہندو اور سکھ انہیں یہاں سے باآسانی نکلنے دیں گے بلکہ ان کی مدد بھی کریں گے۔انہیں کچھ قافلوں کا انتظار تھا جن کے ساتھ مل کر وہ پاکستان جانے کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔دو چار لٹے پٹے خاندان ان کی حویلی میں آئے۔جن کی حالت زار دیکھ کر دل ہول اٹھے۔خالی ہاتھ،بھوکے، پیاسے،زخمی،کسی کے پائوں میں جوتی نہیں۔کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے۔کسی کا بچہ سکھوں نے نیزے کی نوک پر رکھ کر ٹکڑے کر دیا۔کسی کی جوان بہن اور بیٹی کو رستے میں ہی ہندو سورماؤں نے زبردستی چھین لیا۔یہ سن کر اور اس حالت میں آنے والوں کو دیکھ کر حویلی والوں کے کلیجے دھک رہ گئے۔وہ سب یہاں سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے محلے کے ہندوؤں نے سکھوں کے ساتھ مل کر حویلی کا محاصرہ کر لیا۔اس پر حملے کی تیاری کرنے لگے۔باہر جانے کے تمام راستے بند کر دئے گئے۔بچے بھوک و پیاس سے بلبلانے لگے۔بڑی بوڑھیوں نے پریشانی کے عالم میں ہی تھوڑے سے پڑے ہوئے چاول ابالے اور چاروناچار بغیر نمک مرچ اور سالن کے بچوں کے کھلائے اور خود بھی زہر مار کیے۔رات پریشانی کے عالم میں گزری صبح ہندوؤں نے حویلی پر فائرنگ شروع کر دی۔ان کا مطالبہ تھا کہ تمام قیمتی مال اور جوان لڑکیاں ان کے حوالے کر دی جائیں۔یہ مطالبہ کسی قیمت پر منظور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ستم یہ کہ مقابلہ کرنے کے لئے حویلی کے مردوں کے پاس کوئی اسلحہ نہ تھا۔سلیم کے تایا غلام حیدر نے باہر نکل کر ان سے رحم کی درخواست کی۔ان میں بہت سے وہ تھے جو غلام حیدر اور اسماعیل کے برسوں پرانے ساتھی تھے۔سلیم اور مجید کے لنگوٹیے یار بھی وہاں موجود تھے۔لیکن وہ سب تو ایسے آنکھیں پھیرے کھڑے تھے جیسے انہیں جانتے ہی نہ ہوں۔حویلی کے مرد نہتے ہی ان سے لڑنے پر مجبور ہو گئے۔اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔گھر کی تمام عورتوں نے اپنے آپ کو ایک بڑے کمرے میں بند کر لیا جس کا دروازہ کافی مظبوط تھا۔ایک ایک کر کے حویلی میں موجود آدمی شہید ہونے لگے۔باہر سے اندھا دھند فائرنگ ہونے لگی۔پانچ سال کی ایک معصوم سی بچی حویلی کے صحن میں دیوار کے ساتھ سہمی کھڑی تھی۔کسی نے آواز دی دیوار کے ساتھ لپٹ جاو پھر گولی نہیں لگے گی۔اس نے فوری حکم کی تعمیل کی اور دیوار کی طرف منہ کر کے لپٹ گئی لیکن بارود کا ایک گولہ اس کے پاس آکر پھٹا اور اس کے چیتھڑے اڑگئے۔ظالم لوگ حویلی میں داخل ہو گئے تھے۔وہ سارے کمروں کی تلاشی لے رہے تھے۔جب انہیں مطلوبہ مال نہ ملا تو وہ غصے سے پاگل ہو گئے اور ہر چیز کو آگ لگانے لگے۔ ایک آدمی چھت پر گیا اور جس کمرے میں عورتیں تھیں اس چھت کے بھالوں کو آگ لگا دی اندر کمرے کی چھت سے اگ پھیلنے لگی اور اس میں موجود ساری خواتین جل کر کوئلہ ہو گئیں۔آگ اور دھوئیں میں تکلیف دہ چیخیں آہستہ آہستہ آہستہ آہ و بکا اورسسکیوں میں تبدیل ہو کر جلتی بجھتی راکھ کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔ برسوں سے اس گاوں کی شاندار اور پررونق حویلی ایک ہی ساعت میں جل کر فنا ہو چکی تھی۔ ہندو سورمے اپنا دل ٹھنڈا کرکے کسی اورمسلمان علاقے پر حملہ کرنے کے لیے جاچکے تھے۔ یہاں سوائے سلیم کے کوئی نہ بچا تھا۔اس نے اپنا رومال زمین پر رکھا اور اس میں اپنے پیاروں کے جلے ہوئے جسموں کی راکھ ڈال کر پوٹلی بنائی پھرٹو ٹو ٹےدل اور نڈھال قدموں کے ساتھ پاکستان جانے والے رستے پر چلنے لگا ۔
یہ کہانی نسیم حجازی کے ناول ” خاک و خون "میں میں نے چند سال پہلے پڑھی۔انہوں نے اسلام وکفر کے مابین جنگوں پر مبنی بہت سے ناول لکھے ۔ اپنے ناول خاک و خون میں توانہوں نے ہندو مسلم دشمنی اور ہندوؤں سکھوں کے مظالم کو کھول کر بیان کیا
اس طویل تحریر کا مقصد اہل وطن کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ نا ہے۔یہ تو صرف ایک خاندان کی کہانی تھی اس طرح کے ہزاروں خاندان ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے ۔کتنے آشیانےاجڑے ۔انڈیا سے پاکستان کا سفربہت طویل نہ تھا لیکن یہ اذیت ناک گھڑیاں مہاجرین کےلیے کسی قیامت سے کم نہ تھیں ۔اس رستے سے آتے آتے کئی بھائیوں نے اپنی بہنوں کو کھو دیا جنہیں ہندو اپنی ملکیت سمجھ کر اٹھا لے گئے۔ کئی بہنوں نے اپنے بھائیوں کے سر تن سے جدا ہوتے دیکھے ۔کئی دلہنوں کے سہاگ اجڑے۔ ماوں سے دودھ پیتے بچے الگ کرکے سکھوں نے اپنے نیزوں میں پرو دیے۔ اس ماں کا کیا حال ہوگا جس کے دو بچوں میں سے ایک کو ساتھ لے جانے کی اجازت ملی تھی کیونکہ لاری میں جگہ ہی نہیں تھی۔ پاکستان آنے والی ایک ٹرین پر بلوایئوں نے حملہ کر دیااور سارے مسافروں کو بے دردی سے شہید کر ڈالا جب ٹرین پاکستان پنہچی تو اس میں خون سے بھرے چیتھڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ یہ جھوٹے واقعات نہیں بلکہ حقیقت ہیں ۔ کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان سے پوچھیے۔ مگر ہمارے نوجوانوں کے پاس نہ تو ان باتوں کو سوچنے کے لیے وقت ہے اور نہ ہی انہیں تاریخ سے کوئی دلچسپی ۔ اک چھوٹی سی التجا ہےپاکستا میوں بالخصوص نسل نو سے ۔۔۔۔۔۔خدارا اپنے آباو اجداد کی قربانیوں کو یاد رکھیں ۔ یہ جان لیں کہ آزادی ۔خاک اور خون لازم ملزوم ہیں ۔ آزادی کے لیے عشرت کدوں سے نکل کر خاک نشیں ہونا پڑتا ہے۔خون کی ندیاں بہانی پڑتی ہیں ۔اور جب آزادی مل جاتی ہے تو اس کی قدر اور حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ وگرنہ کٹھن مرحلوں سے حاصل کی جانے والی آزادی ایک جھٹکے سے غلامی میں بدل جاتی ہے۔ اگر اس کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انفرادی اور اجتماعی طور پر محنت کریں ۔وقت ضائع کرنے کی بجائے فلا حی کام کریں۔اس میں اسلام کی بنیادیں مضبوط کریں ۔ کا فروں سے عملی طور پر نفرت کا اظہار کریں ۔ ملک وقوم کے لیے جان کی بازی لگانے کا عزم رکھیں ۔ اپنی سرحدوں پرکڑی نظر رکھیں تاکہ کوئ دشمن اسے میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔آ یے اپنے وطن کے کیے دعا کریں-
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو (آمین )

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.