fbpx

حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979

موسیٰ نہیں جو تاب نظارہ نہ لاسکوں
کچھ دیر اور رہنے دو پردہ اٹھا ہوا

حافظ محمد یوسف آزاد ،یوم وفات: 30 دسمبر 1979
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو اور ہندی کے معروف ادیب و شاعر تحریک ختم نبوت اور تحریک آزادی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرگرم کارکن حافظ محمد یوسف آزاد 1907 کو سکندرہ راو ضلع علیگڑھ ہندوستان ایک زمیندار گھرانے میں اہل قریش کے شیخ ظفر الدین کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ وہ فقط شاعر اور ادیب ہی نہیں بلکہ پہلوان، موسیقار، تحریک خلافت، تحریک ختم نبوت، تحریک آزادی پاکستان کے فعال اور سرگرم رکن اور نعت خواں بھی تھے۔ انہوں نے عربی ، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی ۔ عربی اور فارسی تعلیم میں الحاج سید محمد ابراہیم ان کے استاذ تھے اور ان ہی سے قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ 21 برس کی عمر میں انہوں نے شاعری شروع کی استاد شاعر ” اللہ راضی رہبر” سے اصلاح اور رہنمائی لی جن کا سلسلہ حضرت امیر مینائی سے ملتا ہے ۔ حافظ محمد یوسف صاحب نے ابتدا میں یوسف تخلص استعمال کیا لیکن ہندوستان سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہوں نے آزاد تخلص اختیار کیا۔ انہوں حمد، نعت ، منقبت، غزل اور نظم سمیت اردو شاعری کی تمام اصناف میں بھرپور طبع آزمائی کی جبکہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پسمنظر میں انہوں نے کافی جنگی ترانے بھی لکھے جو بہت مقبول ہوئے ۔ ۔ یوسف آزاد شہنشاہ تغزل حضرت جگر مراد آبادی، علامہ سیماب اکبر آبادی، استاد قمر جلالوی، زیبا ناروی اور احسن مارہروی کے ہم عصر شعراء میں سے تھے بلکہ انہوں نے اپنا پہلا مشاعرہ جگر مراد آبادی کے اصرار پر ان کے ساتھ سرگودھا میں پڑھا۔ سرگودھا میں انہوں نے ” بزم حریم ادب” قائم کی اور اس کے علاوہ دیگر دو ادبی تنظیموں کے بھی بانی اور سرگرم عہدیدار رہے ۔ انہیں ہندی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ چناں چہ اس ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے دو ہندی سوانگ (منظوم ڈرامے) ” جوگن کی عصمت” اور ” مہا رانی تارا” تصنیف کیے جنہیں بہت مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی جبکہ اردو زبان میں ان کی تصانیف ” مدح صحابہ کرام رضہ” ” بڑھیا نامہ” اور ” فضیلت ماہ رمضان” بہت مقبول ہوئیں۔ محمد یوسف آزاد صاحب 1950 میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جن میں ان کی اہلیہ محترمہ ایک بیٹی اور تین بیٹے محمد یونس ارشاد ، محمد یاسین اور محمد یامین شامل تھے ہندوستان سے ہجرت کر کے سرگودھا پاکستان میں آباد ہو گئے ان کے یہ تینوں فرزند بھی والد کی طرح شاعر بن گئے جبکہ پاکستان میں آنے کے بعد ان کے ہاں مزید ایک بیٹی اور 3 بیٹے پیدا ہوئے جن میں سے دو بیٹے بچپن میں ہی فوت ہو گئے ایک بیٹا خالد محمود یوسفی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور یہ بھی ایک بہت اچھے شاعر ہیں۔ یوسف آزاد صاحب کی 30 دسمبر 1979 میں سرگودھا میں وفات ہوئی اور یہیں پہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند خالد یوسفی نے آزاد صاحب کا ایک خوب صورت شعری مجموعہ” آئینہ آزاد” کے نام سے شایع کروا دیا ہے ۔یوسف آزاد صاحب ہندوستان اور پاکستان میں موجود شاگر شعراء کی تعداد دو درجن کے قریب ہیں جن میں علاوالدین بیکل(انڈیا) عزیز انبالوی، صوفی فقیر محمد، اقبال منظر ، کریم بخش مضطر، رب بخش کلیار، حسن عباس زیدی ، مقصود احمد راہی، شفق بجنوری، محمد عمر عاصم جلیسری، کرنل فریدی، الحاج شیخ محمد یاسین، محمد یامین، محمد یونس ارشاد، خالد محمود یوسفی و دیگر شعراء شامل ہیں۔

حافظ محمد یوسف آزاد کی شاعری سے انتخاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"آزاد ” شب تنہائی میں ایسے بھی گزرتے ہیں لمحے
دل درد سے بے کل ہوتا ہے اور درد چھپانا پڑتا ہے

سبنھلنا یہاں شیخ جی میکدہ ہے
بہک جاتے ہیں ہوشیار آتے آتے

پھول غیروں کی وہ تربت پہ چڑھاکے آئے
میری تربت پہ جب آئے تو چڑھائے کانٹے

دیر و کعبہ میں نہ گلشن نہ بیاباں کے قریب
میرے محبوب کا مسکن ہے رگ جاں کے قریب
زندگی گزری ہے پرستش میں بتوں کی ” آزاد”
شرم اب آتی ہے جاتے ہوئے یزداں کے قریب

طور نے جل کے کہا غش میں پڑے ہو موسیٰ
ہوش میں آئو تو پوچھیں کوئی دیدار کی بات

ہر کوئی بسمل نظر آتا ہے بسمل کے قریب
جتنے بھی بیٹھے ہوئے ہیں میرے قاتل کے قریب

آزاد جو کٹ مرتے ہیں ناموس وطن پر
پیچھے نہیں ہٹتے ہیں وہ انسان ہمی ہیں

وہ تھامے ہوئے قلب و جگر آئے ہیں آزاد
میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھ رہا ہوں

میں وہ مے نوش ہوں ساقی تیرے مے خانے میں
گھول کر توبہ کو پی لیتا ہوں پیمانے میں