حیران ہوں کہ راناثناءاللہ پرکرپشن نہیں منشیات کا کیس ہے، وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی

وفاقی وزیربحری امورعلی زیدی نے رانا ثناء‌اللہ کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہماری حکومت میں پی ٹی آئی کےلوگ بھی کیسزکا سامنا کررہےہیں، حیران ہوں راناثنااللہ پرکرپشن کانہیں منشیات کاکیس ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کاواضح اصول ہےکہ کسی ادارےکےکام میں مداخلت نہیں کریں گے. ن لیگ کے حنیف عباسی بھی منشیات کیس میں پکڑے گئے تھے.

واضح رہے کہ یہ گرفتاری اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی جانب سے منشیات فروشوں سے تعلق کے الزام میں کی گئی ہے۔ اے این ایف ذرائع کا کہنا ہے کہ رکن قومی اسمبلی رانا ثناءاللہ خان کے متعدد منشیات فروشوں سے تعلقات ہیں جبکہ اسی طرح ان کے کالعدم تنظیموں سے بھی مبینہ طور پر رابطے ہیں جس کے باعث انہیں تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ سابق صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا نام سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مرکزی ملزمان کے طور پر بھی لیا جاتا ہے تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری کی وجوہات میں سے بڑی منشیات فروشوں‌ سے مبینہ تعلق بتایا جاتا ہے. مسلم لیگ ن کے ذرائع نے بھی رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے.

کہا گیا ہے کہ راناثناءاللہ سے اس معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں ۔ اے این ایف نے رانا ثناءاللہ کو پوچھ گچھ کیلئے تحویل میں لیا ہے اور اگر وہ سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ہوئے تو انہیں با ضابطہ طور پر گرفتار کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ راناثناءاللہ کوگرفتارکرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کا ذاتی موبائل نمبر بند ہوگیا ہے جبکہ ان کے سکیورٹی گارڈز اور ڈرائیور کا نمبر بھی بند ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں‌ میں مسلم لیگ ن میں ٹوٹ پھوٹ بھی نظر آتی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.