حج و عمرہ کے ارکان، واجبات، ممنوعات اور جائز کام کی تفصیلات

ارکان اور واجبات میں فرق

نوٹ: رکن کے بغیر عمرہ یا حک مکمل نہ ہو گا۔

ںوٹ: جان بوجھ کر یا انجانے میں واجب چھوٹ جائے تو دم (بکرہ ذبح کرنا) سے اس کی تلافی ہو سکت

ہے۔ جس کو حدود حرم میں ذبھ کیا جائے اور فقرا مکہ میں تقسیم کیا جائے، حاجی خود اس سے کچھ نہیں کھا سکتا۔

Makkah (1)

عمرہ کے ارکان:

۱۔ احرام باندھنا یعنی عمرہ میں داخل ہونے کی دل سے نیت کرنا۔
۲۔ بیت اللہ کا طواف کرنا۔
۳۔ صفا و مروہ کی سعی کرنا۔

عمرہ کے واجبات:

۱۔ میقات سے احرام باندھنا۔
۲۔ سارے سر کے بال کٹوانا یا منڈوانا
نوٹ: بعض علما کے پاس یہ ارکان میں سے ہیں

حج کے ارکان:

۱۔ احرام باندھنا یعنی حج میں داخل ہونے کی نیت کرنا۔
۲۔ ۹ ذوالحجہ کو زوال کے بعد میدان عرفات میں ٹھہرنا۔
۳۔ ۱۰ ذوالحجہ یا اس کے بعد طوافِ زیارت کرنا۔
۴۔ صفا اور مروہ کی سعی کرنا۔

حج کی شرطیں:

فرضیت حج کی شرطیں یہ ہے:
۱۔ اسلام: اس لیے کہ کافر حج کرے بھی تو اس کا حج قبول نہیں ہو گا۔
۲۔ بلوغت: اس لیے کہ نابالغ بچے اور بچی پر حج فرض نہیں اور اگر بچے نے بلوغت سے قبل حجر کر بھی لیا تا اس کا حج صحیح ہے اور یہ نفلی حج ہو گا، لیکن بالغ ہونے کے بعد مستنطع ہونے پر اسے فرض حج کی ادائیگی کرنا ہو گی، کیونکہ بلوغت سے قبل حج کرنے سے فرض حج ادا نہیں ہوتا۔
۳۔ عقل: کیونکہ پاگل کی نیت نہیں ہوتی۔
۴۔ استطاعت: جس کو بیت اللہ تک پہنچنے کی مالی استطاعت ہو۔ اگر بدنی طور پر استطاعت نہ ہو تو کسی اور سے حج کروا لے۔
نوٹ: عورت کے لیے محرم کا ہونا استطاعت میں شامل ہے، اگر اس کا محرم نہیں تو اس پر حج فرض نہیں ہو گا اور اگر کوئی عورت بغیر محرم کے حج کرے تو حج تو صحیح ہو گا لیکن وہ گناہ گار ہو گی، توبہ و استغفار کرے۔

حج کے واجبات:

۱۔ اپنی رہائش یا میقات سے احرام باندھنا۔
۲۔ ۹ ذوالحجہ کو مغرب تک عرفات میں ٹھہرنا۔
۳۔ ۱۰ ذوالحجہ کی رات مزدلفہ میں گزارنا۔
۴۔ ۱۰ ذوالحجہ کو قربانی کے بعد سارے سر کے بال کٹوانا یا منڈوانا۔
نوٹ: بعض علما کے پاس یہ ارکان میں سے ہے۔
۵۔ ۱۰ ذوالحجہ کو صرف بڑے جمرہ اور ۱۱، ۱۲ ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو بالترتیب اللہ اکبر کہہ کر سات ساتھ کنکریاں مارنا۔ اور ۱۳ ذوالحجہ کی رات منی میں گزارنے والے کے لیے ۱۳ ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا۔
۶۔ ۱۱ اور ۱۲ ذوالحجہ کی رات منی میں گزارنا اور جو چاہے ۱۳ کی رات بھی منی میں گزارے۔
۷۔ طوافِ وداع کرنا۔

حالت احرام میں جائز کام:

۱۔ غسل کرنا
۲۔ سر اور بدن کھجلانا
۳۔ مرہم پٹی کروانا، دوائیاں کھانا پینا
۴۔ آنکھوں میں سرمہ یا دوا ڈالنا
۵۔ موذی جانور کو مارنا۔
۶۔ احڑام کی چادریں بدلنا
۱۰۔ انگھوٹی، عینک، پرس، پٹی یا چھتری وغیرہ استعمال کرنا
۸۔ بغیر خوشبو والا تیل یا صابن استعمال کرنا
۹۔ سمندری شکار کرنا

حالتِ احرام میں ممنوعہ کام اور ان کا کفارہ

۱۔ سر یا جسم کے کسی حسہ سے جان بوجھ کر بال اکھاڑنا، کاٹنا یا منڈوانا
۲۔ ناخن تراشنا
۳۔ خوشبو لگانا ( اس سے مراد چائے یا شربت کی خوشبو نہیں بلکہ عطریات مراد ہیں)
۴۔ مرد کا سر کو ٹوپی یا پگڑی یا کسی ایسی چیز سے ڈھانپنا جو سر سے لگ جائے
۵۔ مرد کا جسمانی ڈھانچے کے مطابق بنے یا سلے ہوئے کپڑے پہننا (جیسے شلوار قمیص، بنیان، کوٹ، سویٹر، پتلون، پاجامہ وغیرہ) جبکہ عورت کا دستانہ اور نقاب پہننا

ان پانچ ممنوع کاموں میں سے کوئی کام غلطی سے یا بھول کر ہو جائے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں اور جان بوجھ کر ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے تو اس پر یہ کفارہ ہے کہ: تین دن روزے رکھنا یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا دم (بکرا ذبح کرنا) دینا۔

۶۔ جنگلی جانور کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں مدد کرنا

اس کے مثل گائے یا اونٹ یا بکری کو ذبح کرنا یا اس کی قیمت سے غلہ خرید کر فی مسکین ایک مد کے حساب سے مساکین میں تقسیم کرنا یا اس کے برابر روزے رکھنا۔

۷۔ منگنی کرنا یا کروانا، نکاح کرنا یا کروانا

توبہ و استغفار کرنا ہو گا اور دوبارہ عقد کرنا ہو گا

۸۔ بیوی سے بوس و کنار کرنا

توبہ و استغفار کرنا ہو گا

۹۔ بیوی سے ہم بستری کرنا

اگر یہ ہم بستری دس تاریخ کو جمرہ کبری کو کنکریاں مارنے سے پہلے تھی تو اس کا حج باطل ہو جائے گا۔ باوجود اس کے، حج کے بقیہ کام پورے کرے گا، ایک گائے یا اونٹ ذبح کر کے فقرائے مکہ میں تقسیم کرنا ہو گاپھر فرض حج کی ادائیگی لازم ہو گی اور اگر ہم بستری دس تاریخ کو جمرہ کبری کو کنکریاں مارنے کے بعد کی ہے تو اس کا حج تو صحیح ہو گا لیکن اس کو دم دینا ہو گا۔

نوٹ: اگر عورت کو حالتِ احرام میں حیض یا نفاس وغیرہ کا خون ٓ جائے تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج و عمرہ کے بقیہ تمام ارکان و واجبات ادا کرے گی۔
نوٹ: ایک قول کے مطابق حیض والی عورت کا مسجد میں بیٹھنا ممنوع ہے جبکہ دوسری تحقیق یہ ہے کہ حیض والی عورتوں کو مسجد میں بیٹھنے سے روکنے والی ساری احادیث ضعیف ہیں لہذا وہ مسجد میں بیٹھ سکتی ہے۔ دوسرا قول درست ہے۔

حج کی تین قسمیں ہیں

۱۔ حج تمتع
۲۔ حج قران
۳۔ حج افراد

نوٹ: عام طور پر ہندوستانی و پاکستانی حجاج حج تمتع ہی کرتے ہیں، باغی ٹی وی کے اس صفحہ پر حج تمتمع ہی کے احکام ذکر کیے گئے ہیں۔

نوٹ: حج تمتع کے لیے عمرہ کرنا ضروری ہے۔

عمرہ کے طریقہ اور حج تمتع کا مکمل طریقہ زیر نظر کتابچہ میں بیان کیا گیا ہے، جسے پرنٹ کر کے سفر میں ہمراہ رکھا جا سکتا ہے۔

قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس کتابچہ کا مطالعہ کریں اور باغی ٹی وی کے اس صفحہ کو اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں تک ضرور پہنچائیں جو اس اہم اور بابرکت فریضہ کی ادائیگی کرنے جا رہے ہیں۔

ذیل میں دیے گئے لنک کو کاپی کر کے اپنے دوست احباب تک پہنچائیں اور صدقہ جاریہ کمائیں۔