fbpx

حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس ہوا

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی ،اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت پیمرا قوانین میں ترمیم لا رہی ہے،پیمرا کے حوالے سے ترمیم میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے، ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت سے ترامیم لا رہے ہیں،جو بھی ترمیم ہوگی اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے،سابق دور میں تنخواہیں ادا نہ کرنے والے میڈیا ہائوسز کے اشتہارات بند نہیں ہوئے اور نہ ہی صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی سے منسلک کیا گیا ورکرز کی تنخواہوں اور کنٹریکٹ کے حوالے سے قانون لایا جا رہا ہے، سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے دور میں چینلز کی کیٹیگری تبدیلی کی،2019ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چینلز کی درجہ بندی کی گئی، اس سے قبل اے، بی اور تھری کیٹیگری کے لحاظ سے اشتہارات دیئے جاتے تھے، اس درجہ بندی سے قبل پی آئی ڈی کا اشتہارات کا نظام بھی شفاف تھا،چینلز کی درجہ بندی پروگرام اور وقت کے حساب سے کی گئی،اشتہارات کے اجراء میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا، کسی چینل کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں رکھا گیا، 2013ء کے بعد پاکستان کے 70 سال مکمل ہونے پر بھی اشتہارات جاری کئے گئے، حکومت آزادی صحافت پر کامل یقین رکھتی ہے،سابق دور میں صحافیوں کو اغواء اور ان پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے، ہمارے دور میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا،

وزارت اطلاعات نے کمیٹی کو 2008ء سے 2013 ، 2013ء سے 2018ء اور 2018ء سے 2022ء تک حکومت کی جانب سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جاری کئے جانے والے اشتہارات پر خرچ ہونے والی رقم اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کی تفصیلات سے آگاہ کیا کمیٹی کو وزارت اطلاعات کی طرف سے بتایا گیا کہ وزارت اطلاعات پانچ مرحلوں میں اشتہارات جاری کرتی ہے ،پی آئی او نے کہا کہ وفاقی سرکاری اداروں کی طرف سے اشتہارات کی منظوری کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ادارے کی ضرورت کے مطابق اشتہارات جاری کرتا ہے، یہ اشتہارات پبلی کیشنز کو پی آئی ڈی سے براہ راست جاری کئے جاتے ہیں۔حکومت اور وزارت اطلاعات کی طرف سے اشتہارات کے اجراء اور ادائیگیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔2013ء سے 2018ء تک وزارت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کو اشتہارات دیئے گئے2018ء سے آئوٹ ڈور کمپین شروع کی گئی،

وزارت اطلاعات کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ 2013ء سے 2015ء تک آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے بھی اشتہارات دیئے گئے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ چینلز کی درجہ بندی اور ٹی وی چینلز کو جاری کئے جانے والے اشتہارات کا ریکارڈ فراہم کیا جائے،کمیٹی کو تمام صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کیلئے پی ٹی وی کی کوریج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا اجلاس میں کمیٹی کے یکم جون 2022ء کو ہونے والے اجلاس کی سفارشات اور فیصلوں پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کی گئی اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وفاقی سیکریٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پرنسپل انفارمیشن آفیسر سید مبشر حسن اور وزارت اطلاعات کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعظم کے دورہ ترکی سے متعلق اخبارات میں اشتہارات کیس، فیصلہ آ گیا

عمران خان بھی "جیو” پر مہربان، اشتہارات کی ادائیگی میں پہلا نمبر

مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم