حکومت اشتعال انگیزی کریگی تو اشتعال انگیزی ہوگی،شاہد خاقان عباسی

حکومت اشتعال انگیزی کریگی تو اشتعال انگیزی ہوگی،شاہد خاقان عباسی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی

ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد اعظم خان نے کی ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نیب پراسیکیوٹر عثمان مسعود عدالت کے روبرو پیش ہوئے

وکلاء ہڑتال کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی کیس کی سماعت 17 فروری تک ملتوی کر دی گئی

صحافی نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ گزشتہ روز کے وکلاء کی جانب سے اشتعال انگیزی پر کیا کہیں گے، جس پر شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت وکلا کیساتھ اشتعال انگیزی کریگی تو اشتعال انگیزی ہوگی، ہرچیز کو گرانے کا ایک طریقہ ہوتا ہوتا پہلے نوٹس دیا جاتا ہے،حکومت کوناقانون نا لوگوں پرواہ ہے دیکھ لیں دارلحکومت میں کیا ہورہاہے، کل ہائیکورٹ میں جو کچھ ہوا تمام تر زمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کی عدالتوں کی دروازے بھی بند ہوگئے ہیں، آج عدالتیں بھی غیر محفوظ ہیں، ان عدالتوں میں جو کیس ہیں، جو فیصلے ہیں پوری دنیا جانتی ہے، جب ملک میں آئین و قانون اور عدالتوں کا یہ حال ہوگا تو بڑی نا انصافی ہوگی،ملک کے حکمرانوں کو آئین و قانون کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ فوج کا سیاست سے تعلق نہیں، جو ملک میں ہو رہا ہے، 2018 میں جو ہوا اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟ جب حکومت بے شرم ہو جائے، جب وہ عوام کی نمائندہ نہ ہو تو یہی ہوتا ہے جو ملک میں ہو رہا ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.