fbpx

حکومت اپریل میں الیکشن کرانے پر مجبور ہو جائے گی،عمران خان

سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کے ساتھ کوئی ریلیشن شپ نہیں،

برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ آج تک کون سا سیاسی رہنما آیا ہے جو اپنی حکومت گرا دیتا ہے جو کہ 70 فیصد پاکستان ہے، یہ حکومت آکشن کے ذریعے آئی ہے، الیکشن کے ذریعے نہیں وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے آئی ہے، جس نے 20، 25 کروڑ روپے دے کر لوگوں کو خریدا، انہوں نے 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز ختم کروائے، ہماری معیشت کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا،کبھی پاکستان کے معاشی حالات وہ نہیں جو آج ہیں،  ایک ہی حل ہے صاف و شفاف انتخابات۔اب تک پاکستان میں الیکشن نہیں ہوتے، نہ اندر سے کوئی سرمایہ کار، کاروباری شخصیت ان پر اعتماد رکھتا ہے، نہ باہر سے کوئی ان پر اعتماد رکھتا ہے،

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک دلدل میں ڈوبتے جا رہے ہیں، سری لنکا جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے حل ایک ہی ہے فری اینڈ فیئر الیکشن، اس وجہ سے ہم نے اپنی دو حکومتیں گرائی ہیں، حکومت اپریل میں الیکشن کرانے پر مجبور ہو جائے گی، فرق یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے قانون کی بالادستی کی دھجیاں اُڑا دی ہیں،یعنی اپنے آپ کو قانون کے اوپر کر دیا ہے، ساری چوری معاف کروا دی ہے، یہ وہ کیسز تھے جو ان کے اپنے ادوار میں بنے ہوئے تھے شہباز، نواز، زرداری، مریم یہ سب بچ گئے ہیں، ان پر سارے کیسز ختم ہوگئے ہیں یہ جتنی دیر اور چاہیں گے، ان کا مقصد اپنے کیسز ختم کرنا ہے اس وقت دو مہینے بھی بہت دور لگ رہے ہیں،آپ نے اگست کہا مگر میں تو ابھی کی بات کر رہا ہوں، ہمیں یہ خطرہ ہے کہ جس طرح ہماری معیشت گِر رہی ہے، ہمارے چار ارب ڈالر کے ذخائر رہ گئے ہیںبندرگاہ پر چار ارب کی چیزیں پڑی ہیں جو اٹھا نہیں رہے، چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں، بے روزگاری، فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں،ہمیں ان کے دو ماہ اور گزارنا مشکل لگ رہا ہے، میری اپنی پیشگوئی ہے کہ جو بھی ہوجائے، یہ حکومت اپریل میں الیکشن کرانے پر مجبور ہوجائے گی، اسٹیبلشمنٹ نے پرویز الہی پر پورا زور لگایا، پرویز الہی وہ ن لیگ کے وزیر اعلی بن جائیں یا وزارت اعلیٰ عمران خان کے کہنے کے باوجود نہ چھوڑیں،ہم نے فیصلہ کیا تھا ہم اسمبلیوں کو تحلیل کریں گے،پرویز الہی نے ہم سے وفاداری نبھائی اور ہمیں وفاداری واپس دینی تھی،وہ یہ ہے کہ وہ ضم ہوجائیں گے اور ہماری پارٹی کا حصہ بن جائیں گے، ان سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ انھوں نے سازش کر کے ہماری حکومت کیوں گرائی تھی؟ 17 سال میں ہماری سب سے بہتر معاشی کارکردگی تھی، ہم کون سی کوئی غلطی کر رہے تھے ،یہ اپنی چوریاں اور این آر او ٹو لے رہے تھے،ملک کے اندر افراتفری پیدا ہونے لگی،تو آج ذرا کاروباری شخیصت سے پوچھیں کیا یہ ہماری وجہ سے ہوا ہے؟یہ انہیں آتے ساتھ ہی اندازہ ہوا کہ ان کے پاس تو روڈ میپ ہی نہیں، آج اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان میں اپریل میں کدھر کھڑا تھا اور آج کدھر کھڑا ہے، میری دفعہ انھوں نے تین لانگ مارچز کیے تھے، سارا وقت انھوں نے میری حکومت پر تنقید کی، اس کے باوجود ہم ترقی کر رہے تھے، ایسا نہیں ہوا جیسے ہی افغانستان میں رجیم چینج ہوئی، تو افغانستان میں بیٹھی ٹی ٹی پی کو افغان حکومت نے پاکستان واپس جانے کا کہا،غنی حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرتی تھی اور یہ وہیں سے پاکستان پر حملے کرتے تھے، جب افغانستان میں دوسری حکومت آئی تو انھوں نے کہا واپس جاؤ، اب جب انھوں نے واپس آنا تھا تو پاکستان کے پاس کیا راستے تھے؟ دو راستے تھے یا تو ان چالیس ہزار لوگوں، جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو کھڑا کر کے گولی مار دیتے، اگر وہ نہیں کرنا تھا تو ان کا ری ہیبلٹیٹ کرنا تھا، ساری سیاسی جماعتیں اس کے لیے متفق تھیں مگر ایسا نہیں ہوا، شدت پسندی میں تیزی اچانک نہیں آئی، آہستہ آہستہ جب وہ آئے تو انھیں ری ہیبلٹیٹ نہیں کیا گیا، ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، ان کے اوپر کوئی پیسہ نہیں خرچ کیا جو ہم نے فیصلہ کیا تھا، ہمیں خوف تھا کہ اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو پھر جگہ جگہ دہشتگردی شروع ہو جائے گی، جو ہو گئی ہے

ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

 سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

شاہنواز امیر نے پولیس کو ڈمبل کا بھی بتایا جو صوفے کے نیچے چھپایا ہوا تھا،