حکومت کے اوپر اور نیچے کس کی حکومت ؟ مبشر لقمان کا تہلکہ خیز انکشاف

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتادیں کہ نیاپاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟

کسی کو بھی وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں۔ وہ یقیناً عوام کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہوں گے۔ لیکن ان کے راستے میں دیدہ و نادیدہ طاقتوں نے ایسے روڑے بچھا رکھے ہیں کہ وہ تیزی سے آگے بڑھنا بھی چاہیں تو نہیں بڑھ سکتے۔ اب تو وہ خود بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے پہلے اُنہیں علم نہیں تھا کہ مافیاز کس انداز سے کام کرتے ہیں؟ اب انہیں قدم قدم پر ان مافیاز سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ جب ملک کا وزیر اعظم ایسی باتیں کرے تو اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت ہے جو حکومت کو چلنے نہیں دیتی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک بار ہی بتا دیں کہ نیا پاکستان بن سکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ گزشتہ دو برسوں اور دو مہینوں سے تو وہ یہی باور کرارہے ہیں کہ نیا پاکستان کوئی سوئچ بورڈ نہیں ہے کہ جسے آن کر کے نیا پاکستان بن جا ئے گا۔ عمران خان کو اس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ اب اپوزیشن نے سڑکوں کے بعد ایوانوں کو بھی گرم کرنا شروع کردیا ہے اور قومی اسمبلی میں اودھم مچ گیا ہے۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو ’’غدار ‘‘ اور بھارت کا ایجنٹ قرار دینے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کو شاں ہے جس سے جہاں دونوں ایوانوں کا پارلیمانی امن تباہ ہو رہا ہے ۔ وہاں ہر سیشن ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی نذر ہو رہا ہے ۔ اپوزیشن کے جارحانہ طرز عمل کے سبب سپیکر اسد قیصر بھی پارلیمان کم کم ہی آرہے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) سپیکر سے اس حد تک نالاں ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی تجویز تک پیش کر دی ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ میں بھی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کو بات کرنے کا موقع نہ ملنے پرحکومتی ارکان نے احتجاج کیا جبکہ قائد ایوان شہزاد وسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید شور شرابہ کیا۔ عمران خان کو اِس لئے بھی سنجیدہ ہوجانا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمن پشاور کے جلسے کو معرکہ کن قرار دے رہے ہیں اور مریم نواز مینار پاکستان گراؤنڈ میں ڈیڑھ لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کے لئے ورکرز کنونشنوں سے خطاب شروع کرنے والی ہیں۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے میں وباء کے نام پر اگر حکومت نے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو سڑکوں اور ایوانوں میں نظر آنے والی گرمی گھر گھر جا گھسے گی اورلوگ گھروں سے نکل آئیں گے۔ پی ڈی ایم کے تین جلسوں میں ہی واضح طور پر نظر آ گیا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے سارے کارڈز کھیل دیے ہیں۔ نواز شریف اس بات کا یقین کر لینے کے بعد کہ اب ان کا سیاست میں کوئی کردار باقی نہیں رہا۔ صرف بدلہ لے کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مریم نوازبڑھ چڑھ کر اپنے والد کا ساتھ دے کر اپنے سیاسی مستقبل کو دائو پر لگا رہی ہیں ۔ کیونکہ ان دونوں باپ بیٹی سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ پاکستان میں اقتدار کے حصول کا فارمولہ کیا ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ طاقت ور حلقوں میں اگر وہ قابل قبول نہ رہے اقتدار میں آنے کا امکان صفر رہے گا۔ نواز شریف نے تو الطاف حسین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی سیاست اور ملک واپسی کے تمام راستے ختم کر ہی لیے ہیں ۔ مریم اس راستے پر کیوں چل رہی ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.