fbpx

حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اب اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں پی ٹی آئی نے جو اس ملک کے ساتھ کیا ہے وہ شاید کوئی نہیں کر سکا ہے ۔ اس وقت ایک بے یقیقنی کی کیفیت ہے ۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا ۔ معیشت کیسے ٹھیک ہوگی ، کب ٹھیک ہوگی ۔ پھر سٹریٹ کرائم سمیت دہشت گردی نے بھی ایک بار پھر سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ۔ دن دیہاڑے لاہور جیسے شہر میں دھماکہ ہوجاتا ہے تو اب دن دیہاڑے صحافی پریس کلب کے باہر قتل بھی ہونا شروع ہوچکے ہیں ۔ یہ حالات خود بخود نہیں ہوئے اس کی قصور وار حکومت ہے ۔ کیونکہ پنجاب پولیس سمیت ہرسرکاری محکمے کو اس حکومت نے صرف ٹرانسفر پوسٹنگ کا ادارہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل عمران خان نے اس ملک کو ایک ایسے اندھے کنویں دھکیل دیا ہے ۔ کہ اب شاید کسی کے پاس کوئی حل نہیں رہ گیا ہے ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ پوری کی پوری حکومت اور پارٹی کے ہاتھ پاوں پھولے ہوئے ہیں ۔ تو غلط نہ ہوگا ۔ اس وقت پوری پی ٹی آئی میں عمران خان سے لے کر نیچے تک ہرکوئی یہ منجن پیچنے کی کوششوں میں ہے کہ سارا قصور میڈیا کا ہے ۔ حالانکہ لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ قصور وار کون ہے ۔ اب جب پکڑ پکڑ کر لائے گئے کبوتروں کا پھر سے اڑ جانے کا وقت ہوچکا ہے تو ان کے بیانات دیکھ لیں ۔ بلکہ ان کی حرکتیں دیکھ لیں ۔ کیا کسی statesmanکو ملک کے وزیر اعظم کو ایسی باتیں زیب دیتی ہیں ۔ جو عمران خان تقریریں فرما رہے ہیں ۔ ۔ پھرعوام کو فضول کی بحثوں میں مشغول رکھنے کی بھونڈی واردات ڈالی جاتی ہے ۔ کہ نظام ہی ٹھیک نہیں ہے حالانکہ مسئلہ نظام میں نہیں ۔ ۔ مسئلہ پی ٹی آئی میں ہے ۔ ۔ مسئلہ امپورٹ کیے ہوئے مشیروں میں ہے ۔ ۔ مسئلہ اے ٹی ایم وزیروں میں ہے ۔۔ مسئلہ کرائے کے ترجمانوں میں ہے ۔ اور سب سے بڑا مسئلہ عمران خان میں ہے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ۔ مسئلہ کپتان کی انا ہے ۔ کہ پنجاب میں وسیم اکرم پلس اور کے پی کے میں محمود خان سے بہتر کوئی ہے ہی نہیں ۔ چاہے عوام ان کی بیڈگورننس کے سبب ایڑھیاں رگڑ رگڑ مر جائے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت نہ شفاف ہے نہ ہی صاف ہے ۔ جتنی نااہلی اور کرپشن اس دور میں ہے ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھی ۔ یہ تو جس دن جائیں گے تو عوام کو پتہ چلے گا کہ ۔۔۔ ۔ اور کس کس کی پی ٹی آئی کی بدولت محرومیاں ایسی دور ہوئی ہیں کہ وہ ارب پتی کیا کھرب پتی بن گئے ہیں ۔ ۔ میرے کپتان ریاست مدینہ یا اخلاقیات کا جتنا مرضی ورد کرلیں مگر سچ یہ ہے کہ میرٹ کو نہیں مانتے۔ یہ پیپلزپارٹی یا ن لیگ پر جتنی مرضی تنقید کریں کہ یہ Friends & Familyکو ہی نوازتے ہیں تو یہ ہی چیز عمران خان پر بھی ٹھیک بیٹھتی ہے کہ ان کے اردگرد بھی ان کے دوست اور صرف خوشامدی ہی ہیں ۔ یوں میرٹ کا جو قتل اس دور میں ہوا اسکی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ ۔ پھر جتنی بھی آج تک آئین اور قانون کی انھوں نے باتیں کی ہیں کسی ایک پر بھی عمل نہیں ۔ کیونکہ حکمران بن کر کپتان نے آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری پر یقین چھوڑ دیا ہے ۔ یہ میں کوئی ہوا میں تیر نہیں چلا رہا ہوں ۔ جس طریقے سے قوانین انھوں نے پارلیمنٹ سے پاس کروائے ہیں جس طرح انھوں نے پارلیمنٹ کو بے وقعت کیا ہے ۔ کیا کبھی اس سے پہلے ایسا ہوا ہے ۔ جیسے کپتان کے دور میں نیب ہو ، اپنے وزیروں پر کرپشن کیسسز ہوں ، فیصل واڈا والا معاملہ ہی دیکھ لیں یا پھر فارن فنڈنگ کیس ہی ہو ۔ تو کس منہ سے پی ٹی آئی دعوی کر سکتی ہے کہ وہ آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو تو ربڑ اسٹیپ کیا ہی یہاں تک کہ کابینہ کو بھی انھوں نے کچن کیبنٹ بننے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ اقرباء پروری اور سفارش کلچر جو اس دور میں پروان چڑھا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا ۔ ۔ آپ دیکھیں اس قوم کے ساتھ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے کہ جو پارٹی الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 126دن تک دھرنے دیے اسلام آباد میں بیٹھی رہی ۔ جب اس کو حکومت ملی تو ننگے ہوکر اس نے دھاندلی خود کی ۔ کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن ہوں یا پھر ڈسکہ میں ضمنی انتخابات کس سے کیا چھپا ہوا ہے کس کو نہیں معلوم کہ اس دور میں کون ووٹ چوری میں ملوث رہا ہے ۔ ۔ پھر بیوروکریسی اچھی ہے یا بری ہے ۔ مگر جس طرح پی ٹی آئی نے ان کو تباہ وبرباد کرنے کی کوشش کی ہے اس کی مثال بھی ماضی میں نہیں ملتی ۔ عملی طور پر پی ٹی آئی نے سرکاری افسروں کو اپنا ذاتی غلام بنانے کی کوشش کی ۔ ان کو اپنی سیاست چمکانے سمیت مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لیے پولیس ہو ، نیب ہو، ایف آئی ہو یا ایف بی آر، کسی بھی ادارے کا نام لےلیں سب کو اپنی من مرضی سے چلانا اور اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ہی پی ٹی آئی کی سیاست اور حکمرانی کا اہم جزورہا ہے ۔ ۔ آزادی اظہار کا جتنا گلا اس دور میں گھوٹا گیا کیا ماضی میں کبھی نہیں ہوا ۔ بلکہ بہت سوں نے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ کپتان نے ضیاالحق دور کی یادیں تازہ کروادیں ۔ صرف صحافی ہی نہیں کون کون کب کب کہاں کہاں سے اٹھایا گیا ہے اگر کوئی اس لسٹ کو compileکرلے تو اس حکومت کے خلاف ایک لمبی چوڑی چارج شیٹ بن جائے ۔ پھر جو پاکستان کی فارن پالیسی کا مذاق اس دور میں بنا ہے اس سے پہلے نہیں بنا ۔ حکومت کی تمام توجہ یہ ہی رہی کہ عمران خان نے تقریر کتنی اچھی کی ۔ ہاتھ کیسا ملایا ۔ کپڑے کیسے پہنے ۔ اسٹائل کیا مارا ۔ مگر عمران خان کی تقریروں سے جو نقصان ہوا وہ نہیں بتایا گیا ۔ کیونکہ معاملہ فہمی تو ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ۔ سچ یہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ کشمیر پر اب ہماری آواز سننے کو کوئی تیار نہیں ۔ پھر افغان مسئلے کے بعد مغرب سمیت ہمارے بہت سے دوست برادر اسلامی ممالک بھی اب ہم سے کنی کتراتے ہیں ۔ واحد چین ہے جو ہمارے ساتھ کھڑا ہے ویسے اس کو بھی پاکستان سے متنفر کرنے کی عمران خان نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کیونکہ جس طرح اس دور میں سی پیک کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہوئی ۔ ایسا نہ زرداری دور میں ہوا نہ ہی نواز شریف دور میں ہوا ۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہم یہ سوالات اٹھاتے ہیں تو عمران خان برا مناتے ہیں۔ ان کی پارٹی ، انکے وزیر ہم کو صحافت سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ بہترین طرز حکمرانی کے متعلق ماضی میں عمران خان کیا کیا باتیں کیاکرتے تھے،کیا کیا وعدے اُنہوں نے نہیں کیے، اصلاحات اصلاحات کے نعرے لگائے، الیکشن منشور میں وعدے بھی کیے لیکن عمل زیرو ہوا ۔ بلکہ الٹا ہمارے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ یہاں تک کہ بڑے شہر بدبو اور کچرے کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ایک کرکے ان کی ہر چیز ایکسپوز ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے اسد عمر نے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ جناب وزیراعظم کا تھا۔ جناب اسد عمر کے مطابق جن رپورٹس کی بنیاد پہ قائد مسلم لیگ ن کی جو میڈیکل رپورٹس پیش کی گئیں وہ جھوٹی نکلی اور بھی انھوں نے بہت کچھ کہا اور جو بھی کہا وہ بہت بڑی بڑی شہہ سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی نمایاں خبر بنی۔

مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اب جو نواز شریف کو وطن واپس لانے کے روز ٹی وی پر دعوے کیے جاتے ہیں یہ بھی سب جھوٹ کا پلندہ ہیں کیونکہ ان کے اپنے سابق مشیرِ احتساب شہزاد اکبر نے 18 جنوری کو ہونے والے کابینہ کمیٹی کے بند کمرہ اجلاس کو بتایا ہے کہ نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لایا جانا آسان نہیں۔ انہوں نے اجلاس میں عارف نقوی کا حوالہ بھی دیا تھا کہ کس طرح امریکہ، برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی کے لیے بے بس ہوا بیٹھاہے۔ ۔ تو آجکل یہ جو اٹارنی جنرل خط لکھ رہے ہیں ۔ شہباز شریف کو کیسوں میں گھسیٹنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جو دوبارہ سے خصوصی میڈیکل بورڈ بن رہے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جارہی ہیں یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ اسے سے زیادہ کچھ نہیں ۔ ۔ مجھے عمران خان کی ایک بات یاد ہے جو انھوں نے دھرنے کے دنوں میں کہی تھی کہ میں وزیر اعظم بن گیا تو۔۔۔ ۔۔۔ میرے پاکستانیوں !! میں آپ سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس وقت عمران خان صرف جھوٹ بول رہے تھے ۔