fbpx

حکومت کا کمال. غیرمعیاری سولر پینل کو ایک سال کے لیے درآمد کرنے کی اجازت،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

حکومت کا کمال. غیرمعیاری سولر پینل کو ایک سال کے لیے درآمد کرنے کی اجازت،قائمہ کمیٹی میں انکشاف
اسلام آباد(محمداویس ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں انکشاف ہواکہ حکومت نےغیرمعیاری سولر پینل کو ایک سال کے لیے درآمد کرنے کی اجازت دی ہے، وزارت میں پی ایس ڈی پی خرچ نہیں ہوتا تھا ڈیڑھ ماہ قبل صرف 8 فیصد خرچ ہواتھا، وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اسلام آباد میں پانی کے میٹر لگائے جائیں گے، جو جتنا پانی استعمال کرے گا اس کی اتنی فیس ہوگی، انٹارکٹکا میں سٹیشن فعال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جمعہ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس شفیق ترین کی سربراہی میں ہوا ہے، اجلاس میں افنان اللہ، ہدایت اللہ، لیاقت خان تراکئی، فوزیہ ارشد ،ثناءجمالی، کامران مرتضیٰ شریک ہوئے ہیں، کمیٹی میں وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز سیکرٹری وزارت ندیم ارشاد کیانی، ایڈیشنل سیکرٹری ملک قیصرمجید، تمام 17 ذیلی اداروں کے سربراہ شریک ہوئے ہیں، چیرمین کمیٹی سردار شفیق ترین نے کہا کہ وزارت کے 16ذیلی ادارے ہیں ہمیں آج کے اجلاس کاایجنڈا وقت پرنہیں ملا۔جتنا ایجنڈا ممکن ہوگا وہ چلائیں گے،

کمیٹی نے سینیٹر ثناء جمالی کوپاکستان حلال اتھارٹی کے بورڈ آف گورنس کی ممبر بنانے کی توثیق کردی گئی ہے، عوامی درخواست کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے حکام نے کمیٹی کوبتایا کہ درخواست گزارنے گریجویشن 3 سال کی ہے جس کی وجہ سے انجینئرنگ کی ڈگری نہیں دے سکتے ہیں، 4سال کی گریجویشن لازمی ہے، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کو ایک چھتری کے اندرلے آئیں ہیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ دنیا میں اگر ٹیکنالوجی اورانجینئرنگ کوایک ہی ادارہ ریگولیٹ کرتاہے تو پاکستان میں بھی اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی، وفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کمیٹی کوبتایاکہ حلال اتھارٹی 2016میں بنی تھی مگر صرف کاغذوں میں تھی اب اس کو فعال کیا ہے اس ادارے کا پاکستان کی برآمدات میں اہم رول ہوگا۔ دنیا میں جو ٹیکنالوجی آرہی ہیں اس کی پہلی سے ہی تیاری کررہے ہیںپی سی آر ڈبلیو آر نے پانی پر ہم نے بہت زیادہ ریسرچ کی ہے ریسرچ برائے ریسرچ کی ضرورت نہیں ہے وہ ریسرچ کی جائے جس کا عوام کو فائدہ بھی ہوا ہے، آئی بی او کو وزارت میں دفتر کھولنے کا کہا ہے تا کہ پیٹنٹ رجسٹرڈ ہوں، ریسرچ کو عملی جامہ پہنارہے ہیں آئی ٹین اسلام آباد میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کررہے ہیںاوروہاںپانی پہنچائیں گے اورمیٹر لگائیں گے پانی کے چارجز ہوں گے تا کہ لوگ کنٹرول طریقہ سے پانی استعمال ہو۔پاکستان میں سولر لیب بنارہے ہیں تاکہ غیر معیاری پینل کو روکا جائے، این آئی او کو کھڈے لائن لگایا گیا تھا، انٹارکٹیکا میں سٹیشن فعال کرنے کی کوشش کررہے ہیں انٹارکٹیکا کے وسائل ان کو ملیں گے جن کا وہاں سٹیشن ہوگا۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ انٹارکٹیکا کے سٹیشن کو فعال کریں،

چیرمین کمیٹی شفیق ترین نے کہا کہ یہ کمیٹی میں نہیں لارہا تھا کہ اس میں کچھ نہیں ہے۔سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کوبتایاکہ کوئلے سے اینٹیں بنانے کے اوپرکام کررہے ہیں سندھ کا کوئلہ جو اچھی کوالٹی کا نہیں ہے اس کو اس طرح استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں، شبلی فراز نے کہا کہ ریسرچ کرنا ہمارا کام ہے آگے پرائیویٹ سیکٹر اس کو بنائے گا، سیکرٹری نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ پی ایس ڈی پی کا استعمال 8 فیصد تھا اب 65 فیصد ہوگیا ہے جب میں ڈیڑھ ماہ قبل سیکرٹری بنا تو اس وقت یہ حال تھا کہ صرف آٹھ فیصد پی ایس ڈی پی خرچ ہوا تھا، شبلی فراز نے کہا کہ نسٹ میں ٹیکنالوجی زون بنایا ہے قطر کے تعاون سے سٹارٹ اپس بنارہے ہیں، گھر بنا نہیں ہوتا مگر سامان آجاتا ہے اداروں میں آلات خرید لیے جاتے ہیں مگراداوں کی اتنی استعداد کار نہیں ہوتی ہے، پتہ نہیں کیوں آلات پہلے خریدے جاتے ہیں، لیبارٹریوں کو ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کررہے ہیں الیکٹرونک ووٹنگ مشین میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کریں گے، یہ دو ماہ کے اندر بن جائے گی مقامی سطح پر بنائیں گے تو اس سے سرمائے کی بچت ہوگی، یہ ہمارا فلیگ شپ پروجیکٹ ہوگا۔شفاف الیکشن کے لیے یہ بہت ضروری ہے، سیمی کنڈکٹر کی ڈیزائنگ کررہے ہیں، پی سی ایس آئی آر نے سربراہ نے کمیٹی میں انکشاف کیاکہ ملک میں غیر معیار سولر پینل پاکستان آگئے تھے اور پاکستان میں کوئی ٹیسٹنگ اتھارٹی موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے ایک سال کے لیے ان غیرمعیار ی سولر پینل کوپاکستان میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی ہے.