حکومت پر انڈیا کیلئے فضائی حدود بند کرنے کیلئے دباؤ بڑھ گیا، حکومتی عہدیداران نے سر جوڑ لئے

بھارتی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر شہری آبادی پر کلسٹر بموں کے استعمال کے بعد حکومت پاکستان پر انڈیا کیلئے فضائی حدود بند کرنے کا دباؤ بڑھ گیا اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سول ایوی ایشن کی طرف سے فوری طور پر یہ اقدام اٹھایا جائے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انڈیا نے پچھلے چند دنوں میں 38 ہزار فوج کشمیر میں‌ تعینات کر دی ہے اور ایک طرف آزاد کشمیر کی شہری آبادی پر گولہ بارود اور کلسٹر بموں‌ کا استعمال کیا جارہا ہے تو دوسری جانب جموں‌ کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کی خوفناک سازشیں کی جارہی ہیں، پچھلے تین دنوں میں کئی مقامات پر بھارتی فوج نے کلسٹر بموں‌ کا استعمال کیا ہے جس کی تصدیق آئی ایس پی آر اور دفتر خارجہ کی جانب سے بھی کی گئی ہے،

کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر پاکستانی عوام، تاجروں، سماجی تنظیموں‌ اور دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ انڈیا کیلئے فوری طور پر پاکستان کی فضائی حدود بند کر دی جائیں تاکہ ان کی ایئر لائنز کو شدید نقصان سے دوچار کیا جاسکے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر انڈیا کی طرف سے کسی قسم کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جائے تو 27 فروری جیسا بھرپور جواب دیا جائے.عوام کی طرف سے بھارتی دہشت گردی کا بھرپور جواب دینے کیلئے حکومتی عہدیداران نے بھی سر جوڑ لئے ہیں اور بھارتی دہشت گردی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا گیا ہے، حکومت کی طرف سے آئندہ چند دنوں‌ میں اہم فیصلوں کی توقع ہے،

سوشل میڈیا پر بھی بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی جارہی ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بیشتر ٹرینڈ کشمیر اور بھارتی جارحیت کے خلاف چل رہے ہیں. عوامی سطح‌پر کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے انڈیا سے دوستی نبھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس کے مطالبات تسلیم کئے جاتے رہے ہیں تاہم اس نے ہمیشہ مذاکرات کے نام پر کشمیر پر فوجی قبضہ مستحکم کیا، ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا اور نہتے کشمیریوں کا قتل کیا ہے، اب صورتحال یہاں‌تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتی فوج جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں پر کلسٹر بم استعمال کر رہی ہے اس لئے انڈیا سے تعلقات ختم کر کے بھارتی دہشت گردی کو تمام بین الاقوامی فورمز پر بے نقاب کیا جائے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.