fbpx

حکومت کے ساتھ ثالثی مذاکرات میں مبشر لقمان جیسے صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا م سربراہ مذاکراتی وفد صاحبزادہ حامد رضا

مذاکراتی وفد کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے مبشر لقمان کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ حکومت کے ساتھ اس ثالثی مذاکرات میں ان جیسے صحافیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے-

باغی ٹی وی:مبشر لقمان کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتےہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ سعد رضوی صاحب کا بیان ہے کہ حکومت کی طرف سے بدنیتی کا اظہار کیا گیا بہر حال جو بھی ہوا میں سمھتا ہوں مذاکرات میں آپ جیسے صحافیوں نے بڑا اہم کردار ادا کیا-

انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں پچھلے 4 پانچ دنوں میں بڑی منفی رپورٹنگ ہوئی ہمارے بہت سے صحافی اللہ تعالیٰ انہیں بھی جزائے خیر عطا کرے لیکن جس طریقے سے آپ نے درد دل سے جو ہر پاکستانی کا درد دل تھا آپ نے اہم کردار ادا کیا-

حامد رضا نے کہا کہ مبشر لقمان کو ساری قوم نے سنا کہ وہ اس مسئلے کا حل چاہتے تھے وہ مزید لاشیں نہیں چاہتے تھے اس ملک کے اندر امن و امان کو مزید برباد ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے تو اس پر ہمارا خراج تحسین آپ پر بھی کہ اپ جیسے صحافیوں کے متوازن بیانیے کی وجہ سے ہمیں بھی ثالثی کرنے میں آسانی ہوئی اور حکومت پ-ہر بھی اس کو حل کرنے کا پریشر ہوا –

منشر لقمان نے کہا کہ یہ سارے معاملات انتہائی خوش اسلوبی سے آپ کی سربراہی میں طے پا گئے اور آپ کا شکریہ اور جتنے ثالثی کمیٹی کے صارفین ہیں ان کا اپنی طرف سے اور ساری قوم کی جانب سے شکر گزار ہوں ملک میں یہ ہیجان جو رمضان کے مہینے میں آگیا تھا اللہ تعالی نے اس کو خوش اسلوبی سے ختم کیا-

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ لیکن ہماری ایک زمہ داری ہے کہ حکومت سے مطالبہ کریں کہ جتنے لوگ شہید ہو گئے ہیں ان کی فیملی کی کفالت کی ذمہ داری لیں دونوں جانب پولیس اور احتجاج کے شہدا کے لئے کچھ نہ کچھ ان کی تشفی کے لئے کریں ان کے گھر میں تو قیامت آ گئی ان کی عید نہ ہوئی-

صاحبزادہ حامد نے کہا کہ آپ نے بہت خوبصرت درد دل اور خالص پاکستانی والی بات کی ہے اور یہ آپ جیسے ساتھیوں کے تعاون اور دعا سے ہوا ہے یہ ابھی پہلا فیز ہے اور بات چیت کے مراحل اور بھی چلنے ہیں اور دونوں طرف سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کو حل کرنا ہو گا اگر ریاست نہیں کرے گی تو پھر حکومت کی زیادتی ہو گی اور پوری صورتحا ل کے اند رجو نقصان ہوئے ہیں وہ افراد واپس نہیں آ سکتے ان کی کمی ان کے خاندان والے سمجھ سکتے ہیں لیکن ریاست کو آگے بڑھ کر ان کے سر پر دست شفقت رکھنا چاہیئے اور ہمیں اپنی غلطی کھلے دل سے ماننی چاہیئے ہم سےغلطیاں ہوتی ہیں غلطی ماننے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.