fbpx

حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنادیا ہے سپریم کورٹ

خیبر پختونخوا: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنادیا ، پہلے کالج کی فیس 8روپے تھی ، اب بچے کی 30ہزار ہے ۔

باغی ٹی وی : چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا سرکاری اسکولوں کی حالت زار ازخود نوٹس کی سماعت کی،چیف جسٹس کی زیر سربراہی سپریم کورٹ میں دوران سماعت عدالت نے خیبرپختونخوا کے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر شدہ سکولوں میں طلبا اور اساتذہ کی تفصیلات طلب کرلیں –

عدالت نے ایرا کو تمام زیر تعمیر منصوبے جون 2022تک مکمل کرنے کا حکم دےد یا ، عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ایرا افسران صرف تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں ، آپ کے بچے سکول سے محروم ہوتے ہیں توآپ کام کرتے ہیں ۔

چیئرمین ایرا نے عدالت کو بتایا کہ 14ہزار منصوبے مکمل کرنا تھے جن میں سے صرف تین ہزار رہ گئے ہیں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو منصوبے رہ گئے ہیں وہ کون سے ہیں ، چیئرمین ایرا نے جواب دیا کہ تعلیم اور صحت کے منصوبے مکمل ہونا باقی رہ گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر تعلیم اور صحت آپ کی ترجیح ہوتی تو آج یہ منصوبے مکمل ہوتے ،زلزلہ متاثرہ علاقے تو ایک سال میں ہی بن جانے چاہئے تھے ، جن سکولوں کی تصاویر دی گئیں وہ بھی غیر فعال رکھتے ہیں ۔

جسٹس قاضی امین نےکہاکہ پہلے8روپے کالج کی فیس ہوتی تھی اب چھوٹے بچے کی30 ہزارروپے ہے ،حکومتوں کی غفلت نے تعلیم کو صنعت بنا دیا ہے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مفت تعلیم فراہم کرے ،خیبرپختونخوا حکومت ایرا کے پیچھے چھپنے کی کوشش نہ کرے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ اب تک 540میں سے 238سکول مکمل ہو چکے ہیں ، عدالت نے از خود نوٹس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کردی ۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!