حالات،خدشات،امکانات اور اقدامات_!!! تحریر:جویریہ چوہدری

حالات،خدشات،امکانات اور اقدامات_!!!
(تحریر:جویریہ چوہدری)۔
اس وقت پوری دنیا میں جو آواز ہر طرف گونج رہی ہے وہ ہے کورونا وائرس سے بیماری اور اس سے ہونے والی اموات…
اور یہ بات دکھائی بھی دے رہی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں اس وائرس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے…
دنیا میں سپر پاور کہلانے والے امریکہ میں رپورٹ ہلاکتوں کی تعداد چھبیس ہزار بتائی جا رہی ہے اور تقریباً چھ لاکھ متاثرین ہیں…
امریکی جنرل میلے کا کہنا ہے کہ شواہد بتاتے ہیں،وائرس لیب میں نہیں بنا قدرتی طور پر آیا ہے…
بیماریاں اور وبائیں بنی نوع انسان کو تاریخ میں بھی یرغمال بنائے رہی ہیں،اور اُس وقت بھی جب جدید سائنس کا وجود نہیں تھا اور لاکھوں لوگ لقمۂ اجل بن جاتے تھے…
لیکن اس کے بعد جو صورتحال انسانوں کو درپیش رہی،وہ نسلِ انسانی کی بقاء معاشی،معاشرتی مسائل رہے ہیں…
اسی طرح جنگوں کی تاریخ کو پڑھا جائے تو اس کے بعد بھی یہی صورتحال سامنے آتی رہی ہے…
جن خطوں میں جنگ کے شعلے بھڑکا کر خانہ جنگیوں اور ٹیکنالوجی کے زعم میں طاقتیں حملہ آور رہی ہیں وہاں بھی انسانی المیہ ہر دور میں جنم لیتا رہا ہے…
بھوک،افلاس،خوراک اور پانی کے لیئے خانہ جنگی معمول کی صورت اختیار کر گئی…
آج بھی ہم دنیا کے نقشہ پر دیکھیں تو ان جنگ زدہ علاقوں میں انسانیت کس کرب،درد اور بھوک سے گزر رہی ہے،انسانیت کے نام نہاد علمبرداروں کو اس کے نتائج کی ذرا فکر نہیں ہے؟
لاکھوں،کروڑوں کے اعتبار سے مائیگریشن کیا انسانی المیے کو جنم نہیں دیتی؟
تو اس صورتحال میں اس چیز کا جو فائدہ اٹھاتے ہیں یہ وہ ممالک ہیں جو اپنی صنعتوں،اسلحہ کی فروخت اور فنڈز کی فراہمی سے دنیا کو یرغمال بنا کر اپنی معیشت کا جال وسیع اور مضبوط کرتے ہیں اور پھر اسی کی آڑ میں دنیا کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں…
بڑے بڑے قرض فراہم کرنے والے اداروں کے بھلا اور کیا عزائم ہیں؟
اور پھر ایسی صورتحال میں بھی سرمایہ دار اپنے سرمایہ دارانہ نظام کی مضبوطی کا سوچتا ہے…
اپنی تجارت کے خسارے سے ڈرتا ہے اور اس کے لیئے خوف کی فضا پیدا کر کے مختلف سازشی نظریات کو پروان چڑھایا جاتا ہے…
جس سے غریب اور تیسری دنیا کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں…
اب اس حالیہ وبائی مرض کو ہی لیا جائے تو تمام ترقی پزیر دنیا اپنی بند صنعتوں،بڑھتی بے روزگاری،اور ٹھپ برآمدات کی وجہ سے انہی عالمی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے…
جنہوں نے قرض کی فراہمی کی آڑ میں اپنے ایجنڈے اسلامی دنیا پر مسلط کیئے ہیں…
تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسی صورتحال جو جنگی اور ہنگامی اقدامات کی متقاضی ہو…اس میں ہمیں کس شعور کی ضرورت اور کن اقدامات کی طرف بڑھنا ضروری ہے…
دنیا میں اس وقت تک مسائل حل نہیں ہو سکتے جب تک انسانیت کو مدنظر رکھ کر نہ سوچا جائے اور اپنے اپنے نظریات سے بالاتر ہو کر نہ سوچا جائے…
پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کن مقاصد کے لیئے لڑی گئیں اور ان کے نتائج کیا نکلے؟
لاکھوں لوگوں کی زندگیاں ختم ہونے کے بعد بڑے انسانی المیے نے بھی جنم لیا۔۔۔
اب موجودہ صدی میں جس طرح انسانیت کی تذلیل ہوئی اور انسانی حقوق کی پامالی اور زیاں کی جو تاریخ رقم ہوئی یہ بھی ایک الگ اور المناک داستاں ہے…ملتِ اسلامیہ کو اس شدت سے پارہ پارہ کیا گیا ہے کہ کھلم کھلا احکامات کے باوجود اتنا بڑا بلاک متحد نظر نہیں آتا…
اور اس کی واضح وجہ بھی تصورات،جذبات اور اندازِ فکر کا معیار جدا ہونا ہے…
ایک عالمی اخوت میں منسلک ہو کر اپنی پس ماندگی اور غیر صحت مند اقتصادی حالت کی بحالی ناممکن نہیں ہے
صرف(Quixotic)یعنی ہوائی قلعے بنانے یا خوابوں کی دنیا میں رہنے سے آگے بڑھ کر یہ وقت تعبیر کی طرف قدم بڑھانے کا ہے اور اُس شعور کو بیدار کرنےکا ہے کہ ہم بھی ایک مضبوط عالمی اقتصادی نظام سے دنیا کے مسائل کو کم کر سکتے ہیں اور انسانیت کی بقاء کے لیئے یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کر سکتے ہیں…
اپنے وسائل سے اپنی دنیا آپ پیدا کر کے مشکلات کی گھڑیوں میں دنیا کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی آسانیوں کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں…!!!
اور خود ساختہ انسانی نظام کی جگہ انسانیت کے خالق کے دیئے گئے نظام کو نافذ کر کے انسانوں کے استحصال کا خاتمہ اور مکمل ضابطۂ حیات ہونے کی حقیقت دنیا پر واضح کر سکتے ہیں…!!!
وبائیں تو پھوٹتی رہتی ہیں…
مگر یہ عقل والوں کے لیئے آزمائش کی گھڑی میں ثابت قدمی سے اپنا آپ منوانے اور سازشوں کے توڑ کا ایک موقع فراہم کرتی ہیں…
یہ وقت بھی اتحاد سے اپنی راہیں صاف کرنے کا ہے…
خالص انسانی بنیادوں پر لوگوں کی اعانت اور کسی فوٹو سیشن یا نام کے ٹھپے سے بے پرواہ ہو کر کام کرنے کا ہے…
تاکہ کل کو قوم بھوک،افلاس،صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی،بے روزگاری اور ناقص غذائیں کھانے پر کسی گہری مایوسی میں نہ اُترنے پائے…!!!
حالات کا رونا،کیا رونا حالات نے کس کا ساتھ دیا؟
تم خود کو بدل کر دیکھو تو،حالات بدلتے جائیں گے…!!!
قومیں تلاطم میں آ کر ہی سبق سیکھتی اور اپنا مقام پیدا کرتی ہیں…
پروپیگنڈوں کا مقابلہ کرتی اور درست سمت کا تعین کرتی ہیں…!!!
اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے احوال پر رحم کر دے،بگاڑ کو سنوار دے اور تمام موذی بیماریوں سے نجات دے،جس کے قبضۂ قدرت میں کائنات کا ذرہ ذرہ ہے…!!!!!
==============================

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.