fbpx

حلیم عادل شیخ کو ماڈل ٹاؤن کچہری لاہورمیں پیش کر دیا گیا

لاہور: اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی اور رہنما پی ٹی آئی حلیم عادل شیخ کو ماڈل ٹاؤن کچہری لاہور میں پیش کر دیا گیا۔

باغی ٹی وی :حلیم عادل شیخ کے وکیل نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی کو گزشتہ روز سے حرا ست میں لیا گیا ہے جب گرفتار کیا گیا کوئی ایف آئی آر نہیں تھی آج صبح سا ڑھے 10 بجے ایف آئی آر درج ہو ئی۔

وکیل نے عدالت سے کہا ہے کہ درخواست ہے حلیم عدال شیخ کو بذریعہ جہاز کراچی لے جایا جائے۔اگر روڈ سے لے کر جاتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی اور پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے رہنما حلیم عادل شیخ کو سادہ لباس اہلکار وں نے لاہور سے حراست میں لیا تھا تاہم بعد ازاں اینٹی کرپشن سندھ نے پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری ظاہر کر دی تھی –

اینٹی کرپشن نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی گرفتار ی کی تصدیق کی تھی اینٹی کرپشن حکام کا کہنا تھا کہ حلیم عادل کے خلاف اینٹی کرپشن جامشورو تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا جو جامشورو کے سرکل افسر ذیشان حیدر میمن کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔


ذرائع کے مطابق حلیم عادل کو سرکاری زمین کےجھوٹےکاغذات بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، انہوں نے زمین کے جھوٹے کاغذات پر بینک سے قرض لیا تھا سرکاری زمین کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری سےحلیم عادل شیخ نے زمین ایک شخص کے نام کرائی، پی ٹی آئی رہنما نے پھر وہی زمین اس شخص سے اپنے نام کرائی۔


اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق بورڈ آف ریونیو اس زمین کے کھاتے منسوخ کرچکا ہے حلیم عادل کاراہداری ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد انہیں سندھ منتقل کیا جائےگا۔

واضح رہے کہ حلیم عادل شیخ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ گزشتہ روز لاہور پہنچے تھے رات کو سادہ لباس اہلکاروں کی ٹیم نے چھاپہ مارا اور اپنے ساتھ لے گئے-

الیکشن کمیشن نےوزیراعظم کو ٹھٹھہ جانے سے روک دیا

نجی خبررساں ادارے کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ حراست میں لینے والے افراد کس ادارے سے ہیں یہ نہیں بتایا گیا ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ کس الزام کے تحت انہیں گرفتار کیا گیا ہے وہ مختلف اداروں اور پولیس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس الزام کے تحت انہیں حراست میں لیا گیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔


سادہ لباس افراد کی حلیم عادل شیخ کو اپنے ہمراہ لے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ہوٹل کے باہر ڈبل کیبن گاڑی کو آکر رکتے دیکھا جاسکتا ہے اور پھر سادہ لباس افراد ہوٹل میں داخل ہوتے ہیں تاہم بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں حلیم عادل شیخ کو ان افراد کے ساتھ جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

ہم دیوالیہ ہو چکے خان صاحب ،مزید پیسے نہیں دے سکتے، جہانگیر چیکو

دوسری جانب سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر مذمت کی جا رہی ہے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے حلیم عادل شیخ کے خلاف مبینہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کہیں ظاہر نہیں کی جارہی،خدشہ ہے کہ سندھ حکومت کے جرائم پیشہ افراد نے انہیں اغوا کیا ہے کسی بھی قسم کا نقصان ہوا تو ذمہ دار سندھ حکومت ہو گی۔

زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا،طارق بشیر چیمہ

جس کے بعد حلیم عادل شیخ کی گرفتاری پر ان کی صاحبزادی عائشہ حلیم کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا کہ سوشل میڈیا پر حلیم عادل شیخ کے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے ان کی بیٹی کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی –

عائشہ حلیم کا کہنا تھا کہ رات کو ساڑھے تین بجے میرے والد کو لاہور کے ایک ہوٹل سے نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے اور اب ان کی فیملی سمیت وکیل میں سے بھی کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ والد کو کہاں لے جایا گیا ہے کیوں کہ ساتھ لے جانے والوں کے پاس نہ وارنٹ تھا نہ آرڈر ۔


انہوں نے کہا تھا کہ میرے والد کچھ دن قبل ہی اس خدشے کا اظہار کرچکے تھے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، انہوں نے متعلقہ شخصیات بشمول چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی اس حوالے سے ایک خط لکھا تھا کہ انہیں کسٹڈی میں لے کر ان کی جان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

عائشہ حلیم کا کہنا تھا کہ پچھلے مہینے میں ہمارے گھر کے قریب کالونی کے اردگرد میں 20 ،25 موبائلز موجود تھیں جو آنے جانے والے لوگوں کو مانیٹر کررہی تھیں، ان میں چیف منسٹر ہاؤس کی سکیورٹی سمیت کرمنل بیک گراؤنڈ والے افسران بھی موجود تھے، پیپلز پارٹی نے شاید اپنے جیالے بھیجے تھے۔

حلیم عادل کی صاحبزادی نے کہا تھا کہ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا اس ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو مجھے یہ بتا سکے کہ میرے والد کہاں ہیں یا انہیں کس نے اٹھایا ہے؟ ان کا جرم کیا ہے؟ وہ محفوظ ہیں بھی یا نہیں؟ یہ پہلی بار نہیں ہے، ایک ماہ پہلے بھی حکومت ان پر دہشتگردی کے چارجز لگاچکی ہے اور اگر وہ ووٹ ڈالنے بھی جائیں تو ان پر کیس کردیا جاتا ہے کوئی مجھے یہ بتاسکتا ہے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے؟۔

پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو خاندانوں کیلئے سیاست کا مفہوم انتقامی کارروائیاں ہیں،حلیم عادل شیخ کو بھی دونوں خاندانوں نے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا،حلیم عادل شیخ کو سادہ لباس میں افراد اغوا کرکے لے کر گئے،چیف جسٹس حلیم عادل شیخ کے اغوا کا فوری نوٹس لیں-

وفاقی وزیر یاسمین راشد نے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علیم عادل شیخ کی گرفتاری کی مذمت کی کہا کہ بزدل ناجائز حکمران تحریک انصاف سے خوفزدہ ہے –

صدر پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب نے کہا تھا کہ حکمران ٹولہ اقتدار کی ہوس میں اندھا ہو چکا ہے جبکہ رہنما پی ٹی آئی عندلیب عباس نے کہا تھا کہ گرفتاریاں اور مقدمات ہمارا حوصلہ پست نہیں کر سکتے،علیم عادل شیخ کو فوری رہا کیا جائے-

پی ٹی آئی سیکریٹری اطلاعات فرخ حبیب نے کہا تھا کہ حلیم عادل شیخ کو نامعلوم مقام پر منتقلی اغوا کے زمرے میں آتاہے،حکومت نے قانون کی دھجیاں اڑا دی ہے،حلیم عادل شیخ کو فوری بازیاب کیا جائے-