حلیم عادل شیخ کے کمرے سے سانپ نکلنے پر تحریک انصاف نے دیا سخت رد عمل

حلیم عادل شیخ کے کمرے سے سانپ نکلنے پر تحریک انصاف نے دیا سخت رد عمل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر نے الزام عائد کیا ہے کہ سی آئی اے سینٹر میں سانپ چھوڑا گیا ہمیں لگتا ہے اب کھانے میں بھی زہر ملایا جا سکتا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں سنا کہ سی آئی اے سینٹر سے سانپ نکلا ہو ،

پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے اے ٹی سی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کہ حلیم عادل شیخ کی جان کو خطرہ ہے،حلیم عادل شیخ کی فیملی، وزرا ،ایم این اے اور ایم پی ایز کو ملنے نہیں دیا جاریا عدالت سے درخواست کی اہلخانہ اور ایم پی ایز کو ملنے دیا جائے جیسے مرتضیٰ بھٹو کومارا گیا ایسے حلیم عادل شیخ کے ساتھ نہ کریں،

خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ملک میں کہیں ایسا رویہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہوتا تو جمہوریت خطرے کے نعرے لگ جاتے، ہم جمہوری اورقانونی بات پریقین رکھتےہیں، سندھ حکومت سیاسی انتقام کی آگ میں دماغ کھوبیٹھی ہے۔تحریک انصاف کےکارکنان و زمہ داران کی جانوں کوخطرہ ہے سکیورٹی واپس لے لینا تشویشناک ہے.

قائدحزب اختلاف حلیم عادل شیخ کے کمرے سے سانپ نکلنے پررکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو کا کہنا ہے کہ ہرطرح سے حلیم عادل شیخ کوزیرکرنے کی سازشیں کی جارہی ہے دوران پولیس حراست کے دوران سانپ کا نکلنا ایک بڑی سازش ہے ،پیپلزپارٹی نے اپنے مخالفین کو ہٹانے کے لئے سازشیں بنا رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ 16 فروری کو کراچی کے سندھ اسمبلی کے حلقے پی ایس 88 ملیر میں ضمنی انتخاب کے دوران حلیم عادل شیخ کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے منتظم جج نے کارِ سرکار میں مداخلت، ہنگامہ آرائی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماء حلیم عادل شیخ سمیت دیگر ملزمان کو بالترتیب 2 اور 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا تھا۔

دوسری جانب حلیم عادل شیخ کے بعد ان کے ساتھیوں کیخلاف بھی3مقدمات درج کئے گئے، مقدمات میمن گوٹھ تھانے میں سندھ آرمز ایکٹ کی دفعہ 23اے کے تحت درج کیے گئے۔گرفتار ملزمان میں محمود،غلام مصطفی اور رمضان شامل ہیں ، ملزمان کے نام دہشت گردی کےتحت درج ایف آئی آر میں بھی شامل ہیں ، حلیم عادل شیخ کیساتھ گرفتارہونیوالے ساتھیوں سے3ہتھیار ملےتھے، ایف آئی آرکےمطابق گرفتارپرائیوٹ سیکیورٹی اہلکارلائسنس پیش نہ کرسکے پولیس کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو ایک مقدمےمیں نامزد کیاگیا ہے جبکہ دیگر مقدمات حلیم عادل شیخ کےسیکیورٹی گارڈز کےخلاف درج کیے گئے ہیں

مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ حلیم عادل شیخ اپنے ساتھی سمیرشیخ اور3 سے4مسلح افراد کےساتھ گھوم رہےتھے، ان کےساتھ پولنگ اسٹیشن آنے والوں کےپاس لاٹھیاں بھی تھیں متن میں کہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کےساتھ موجود مسلح افراد نے دہشت پھیلانے کےلیےفائرنگ کی، ہوائی فائرنگ سےعلاقے میں خوف وہراس پھیلا،اوربھگڈر مچ گئی، مسلح افراد نےڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کوتشدد کانشانہ بنایااور وردیاں پھاڑ دیں مقدمے میں کہا گیا ہے کہ حلیم عادل شیخ کی ہدایت پرپولیس موبائل پرفائرنگ کی گئی،شیشےبھی توڑ دیے گئے، چاروں مقدمات تھانہ میمن گوٹھ کےایس ایچ او خالد عباسی کی مدعیت میں درج کیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.